تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 34

لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۸ وہ خدا کی بات سے ایک لفظ بھی زیادہ نہیں کہتے۔او ر وہ اس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔حل لغات۔لَایَسْبِقُوْنَہٗ۔لَا یَسْبِقُوْنَ سَبَقَ سے مضارع منفی کا صیغہ ہے اور سَبَقَہٗ کے معنے ہوتے ہیں تَقَدَّمَہٗ وَ جَازَہٗ وَ خَلَّـفَہٗ۔اس سے آگے بڑھ گیا اور اس کو پیچھے چھوڑ دیا (اقرب) پس لَایَسْبِقُوْنَہٗ بِالْقَوْلِ کے معنے ہوںگے وہ خدا کی بات سے ایک لفظ بھی زیادہ نہیں کہتے۔تفسیر۔یعنی خدا تعالیٰ کے نیک بندے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہتے جو خدا نے ان سے نہ کہی ہو اور ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فرماںبردار رہتے ہیں پھر وہ خداکس طرح ہوسکتے ہیں۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا يَشْفَعُوْنَ١ۙ وہ (یعنی خدا) اس کو بھی جانتاہے جو انہیںآئندہ پیش آنےوالا ہے اور جووہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں اور وہ سوائے اس کے اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ۰۰۲۹ جس کے لئے خدا نے یہ بات پسند کی ہو کسی کے لئے شفاعت نہیںکرتے( یعنی معبودان باطلہ) اور وہ اس کے خوف سے لرزتے رہتے ہیں۔حلّ لُغَات۔مُشْفِقُوْنَ۔مُشْفِقُوْنَ اَشْفَقَ سے اسم فاعل جمع کاصیغہ ہے اور اَشْفَقَ الشَّیْءَکے معنے ہوتے ہیں خَافَ وَحَاذَرَ اس سے ڈرا (اقرب) پس مُشْفِقُونَ کے معنے ہوںگے ڈرنے والے۔تفسیر۔فرماتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام حالات سے واقف ہے جوکام انہوں نے کرلئے ان سے بھی واقف ہے اورجو رہ گئے ان سے بھی واقف ہے اور ان کو بغیر قید کے شفاعت کا حق نہیں جس کے حق میں خدااجازت دے اسی کے حق میںشفاعت ہوسکتی ہے۔پس بخشش بہر حال خداکے ہاتھ میںہی رہی بائیبل میںبھی لکھاہے۔’’اگر ایک آدمی دوسرے کا گناہ کرے تو خدااس کا انصاف کرےگالیکن اگر آدمی خداوندی گناہ کرے تو اس کی شفاعت کو ن کرےگا۔‘‘ (۱۔سموئیل باب ۲ آیت ۲۵)