تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 369
اور مکّہ کی تاریخ لکھی جاتی تو مؤرخ صرف اتنا ذکر کرتا کہ ابو بکر ؓ عرب کا ایک شریف اور دیانت دار تاجر تھا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے ابو بکر ؓ کو وہ مقام ملا تو آج ساری دنیا اُن کا ادب اور احترام کے ساتھ نام لیتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اور حضرت ابو بکر ؓ کو مسلمانوں نے اپنا خلیفہ اور بادشاہ بنا لیا تو مکہ میں بھی یہ خبر جاپہنچی۔ایک مجلس میں بہت سے لوگ بیٹھے تھے جن میں حضرت ابوبکر ؓ کے والد ابو قحافہ بھی موجود تھے۔جب انہوں نے سنا کہ ابو بکر ؓکے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کر لی ہے تو اُن کے لئے اس امر کو تسلیم کرنا نا ممکن ہو گیا اور انہوں نے خبر دینے والے سے پوچھا کہ تم کس ابو بکر ؓ کا ذکر کر رہے ہو ؟ اُس نے کہا وہی ابو بکر ؓ جو تمہارا بیٹا ہے انہوں نے عرب کے ایک ایک قبیلے کا نام لے کر کہنا شروع کر دیا کہ اُس نے بھی ابو بکر ؓ کی بیعت کر لی ہےاور جب اُس نے کہا کہ سب نے متفقہ طور پر ابو بکر ؓ کو خلیفہ اور بادشا ہ بنا لیا ہے تو ابو قحافہ بے اختیار کہنے لگے کہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗیعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ رسول اللہ اُس کے سچے رسول ہیں۔حالانکہ وہ دیر سے مسلمان تھے۔انہوںنے جو یہ کلمہ پڑھا اور دوبارہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کیا تو اسی لئے کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو اُن کی آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے سمجھا کہ یہ اسلام کی سچائی کا ایک زبردست ثبوت ہے۔ورنہ میرے بیٹے کی کیا حیثیت تھی کہ اُس کے ہاتھ پر سارا عرب متحد ہو جا تا۔غرض اسلام نے اپنے ماننے والوں کو فرشِ زمین سے اٹھایا اور انہیں ثریا تک جا پہنچایا۔تاریخ اُن کے کارناموں سے بھری پڑی ہےاور کوئی شخص جو دیدۂ بینا رکھتا ہو اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ قرآن کریم نے اپنے ماننے والوں کو ایک لازوال شہرت بخشی اور اُن کی عزت کو اُس نے چار چاند لگا دیئے۔مگر وہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کو نہ مانا وہ اپنی پہلی عزتیں بھی کھو بیٹھے اور ذلّت کے ایسے گڑھوں میں گِرے کہ آج کوئی شخص اُن کا نام تک نہیں جانتا اور جن کو جانتا بھی ہے اُن کو وہ عزّت سے یاد نہیں کرتا بلکہ ذلّت اور رسوائی سے یاد کرتا ہے۔اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَيْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَيْرُ کیا تُو ان سے کوئی تاوان مانگتا ہے ؟( ایسا نہیں ہو سکتا )کیونکہ تیرے رب کا دیا ہوا مال بہت اچھا ہے اور وہ الرّٰزِقِيْنَ۰۰۷۳وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۷۴ (رب) بہتر ین رزق دینے والا ہے۔اور تُو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہے۔اور جو لوگ