تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 366
دکھائی دینے لگے۔اس کے بعد فرماتا ہے بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَ۔حقیقت یہ ہے کہ ہم اُن کے پاس اُن کی عزت اور شرف کا سامان لے کر آئے ہیں مگر وہ اپنی عزت اورشرف کے سامانوں سے بھی اعراض کر رہے ہیں۔یعنی قرآنی تعلیم کی اتباع میں اُن کی بزرگی اور شرف کے سامان مخفی تھے پس اُس کو چھوڑ کر وہ اس سے منہ نہیں موڑ رہے۔بلکہ اپنی ترقی سے مُنہ موڑ رہے ہیں۔اس آیت میں قرآن کریم کو ذکر قرار د ے کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب نہ صرف ذاتی کمالات کے لحاظ سے ایک عظیم الشان شرف اور عظمت رکھتی ہے بلکہ جو لوگ سچے دل سے اس پر ایمان لائیں گے وہ بھی دنیا میں معزز اور مکرم ہو جائیں گے چنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی قوم کی طرف آئے تھے جو غیر متمدن اور تہذیب و شائستگی کے اصول سے بالکل بے گانہ تھی اور ہر قسم کی خرابیاں اُس میں پائی جاتی تھیں۔وہ لوگ ڈاکہ ، چوری اور راہزنی میں مشہور تھے اور فسق و فجور اُن کی گھٹی میں رچا ہوا تھا۔دوسرے کو قتل کردینا اُن کے نزدیک ایک معمولی بات تھی۔مائوں سے شادی کرلیتے تھے۔شراب کے نشہ میں ہر وقت چور رہتے تھے۔لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔عورتوں کو حیوانوں سے بد تر سمجھتے تھے۔معمولی معمولی باتوں پر آپس میں لڑائی شروع کر دیتے تھے جو بعض دفعہ سالہا سال تک جاری رہتی تھی۔غرض نہ انہیں کوئی اخلاقی برتری حاصل تھی نہ تمدنی برتری حاصل تھی۔نہ سیاسی برتری حاصل تھی۔نہ مذہب سے انہیں کسی قسم کی دلچسپی تھی۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور قرآن کریم کی برکت سے وہ تھوڑے دنوں میں ہی دنیا کے معلم اور استاد بن گئے اور ایک نئی تہذیب اور تمدن کی انہوں نے بنیاد ڈال دی۔قیصر و کسریٰ کی حکومتیں بھی اُن سے ٹکرائیں تو وہ پاش پاش ہو گئیں اور پھر وہ جس جگہ بھی گئے انہوں نے علوم کے دریا بہا دئیے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عربوں کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ علم تاریخ کیا چیز ہے یا صرف اور نحو کونسے علوم ہیں یا فقہ اور اصول فقہ کس کو کہتے ہیں۔یا علم معانی اور بیان کس چیز کا نام ہے۔یا فن بلاغت کس کو کہتے ہیں۔یا علم اقتصادیات کو نسا علم ہے۔یا علم کلام کیا چیز ہے۔مگر قرآن کریم کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہی خانہ بدوش اور اونٹوں کے چرواہوں کے ذریعہ دنیا میں ان تمام علوم کو پھیلا دیا۔اسی طرح فنِ تعمیر۔قالین بانی اور عمارتوں پر رنگدار بیل بوٹے بنانے بھی مسلمانوں سے ہی یورپ نے سیکھے۔بلکہ فنِ موسیقی جو آج تمام متمدن دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اُس کی ایجاد کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہی ہے اور خود یوروپین مصنّفین نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔اسی طرح فلسفہ کو یورپ کی ایجاد سمجھا جاتا ہے لیکن ایک یوروپین فلاسفر نے لکھا ہے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔فلسفہ میں بھی ہم مسلمانوں کے ہی مرہون منت ہیں۔