تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 362

بِالدُّعَاءِ کے معنے ہیں ضَجَّ وتَضَرَّعَ و اسْتَغَاثَ۔اُس نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے فریا د اور دُعا کی اور اُس سے مدد چاہی اور جَأَرَ الدَّاعِی جَأْرًا کے معنے ہیں رَفَعَ صَوْتَہٗ بِالدُّعَاءِ پکارنے والے نے اونچی آواز سے پکارا۔پس یَجْئَرُوْنَ کے معنے یہ ہوئے کہ وہ عاجزی کا اظہار کرتے اور فریاد کرتے ہیں۔(اقرب) سٰمِرًا۔سَمَرَ فُلَانٌ کے معنے ہوتے ہیں لَمْ یَنَمْ وَتَحدَّثَ لَیْلًا۔یعنی وہ رات کو نہ سویا اور باتیں کرتا رہا۔پس سٰمِرًا جو سَمَرَ کا اسم فاعل ہےاس کے معنے ہوںگے رات کو باتیں کرنے والا ( اقرب) تفسیر۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتا یا ہے کہ خدائی منشا کو پورا نہ کرنے والے لوگ بعض دفعہ دولتیں تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن اُن کی دولتیں انہیں خدائی عذاب سے نہیں بچا سکتیں۔وہ اپنی دولت کے گھمنڈ میں ہی رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھر چلاتے اور گریہ وزاری کرنے لگ جاتے ہیں مگر اُس دن ہم اُن سے کہتے ہیں کہ آج گِریہ و زاری کا کیا فائدہ ؟ آج ہم تمہاری مدد کس طرح کر سکتے ہیں۔تمہارے سامنے ہماری تعلیم سُنائی جاتی تھی لیکن تم اس سے بے پرواہی کا اظہار کرتے ہوئے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے ایڑیوں کے بل پھر جاتے تھے او ر اُس پر کبھی غور نہیں کرتے تھے اور راتوں کو بیٹھ بیٹھ کر ہماری تعلیم کو برا بھلا کہا کرتے تھے۔اُس کا نتیجہ آج تم نے دیکھ لیا کہ تمہارا تکبر تمہیں لے ڈوبا اور تمہاری دولتیں تمہارے کسی کام نہ آئیں۔یعنی خدائی عذاب پر چلانا کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ خدا تعالیٰ کا عذاب حجت تما م ہونے کے بعد آتا ہے اور حجّت پوری ہونے کے بعد عذاب پر چلانا بے فائدہ ہوتا ہے۔اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ يَاْتِ اٰبَآءَهُمُ کیا ان لوگوں نے اس قول( یعنی قرآن) پر غور نہیں کیا یا ان کو وہ (وعدہ) ملا ہے جو ان کے پہلے باپ دادوں کو نہیں ملا تھا۔الْاَوَّلِيْنَٞ۰۰۶۹اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ (اور)کیا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا جس کی وجہ سے وہ اُس کا انکار کر رہے ہیں کیا وہ کہتے ہیں مُنْكِرُوْنَٞ۰۰۷۰اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ کہ اس کو جنون ہے (مگر ایسی بات نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق لےکر آیا ہے اور ان میں سے اکثر لوگ حق کو