تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 32

ہے تردیدنہیں کرتی تاکہ دشمن کو معلومات حاصل نہ ہوں یہی غرض ابوسفیان کی بھی تھی مگر جب مسلمانوں کی طرف سے کوئی جواب نہ ملاتو اس نے سمجھ لیا کہ یہ تینوں مسلمان لیڈر مارے گئے ہیںاس پر اس نے بڑے زور سے اپنا مشرکانہ نعرہ بلند کیا۔اور کہا اُعْلُ ھُبَلُ اُعْلُ ھُبَلُ۔یعنی ہمارا ھبل دیوتا بڑی شان والا ہے اس لئے اس نے مسلمانوں کو شکست دے دی ہے چونکہ صحابہ ؓ کو بار بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماچکے تھے کہ خاموش رہو۔اس لئے اس مشرکانہ نعرہ پر بھی وہ خاموش رہے۔اس پر رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے جوش سے صحابہ ؓ سے کہا۔جواب کیوں نہیں دیتے انہوں نے کہایا رسو ل اللہ ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو اللہ اَعْلیٰ وَاَجَلُّ یعنی تمہارے ھبل کی کیاحقیقت ہے اللہ تعالیٰ ہی بلند اور سب سے زیادہ طاقتور ہے (بخاری کتاب المغازی باب غزوة احد)۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اپنی اور اپنے صحابہؓ کی موت کا اعلان تو برداشت کرلیامگر جب خدا تعالیٰ کانام آیاتو اس وقت آپ نے اس بات کی کوئی پروانہ کی کہ ہم تھوڑے ہیںاگر دشمن کو پتہ لگ گیا تو وہ حملہ کرکے نقصان پہنچائےگا بلکہ آپ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ جواب دو تمہارا ھُبل ہمارے خدا کے مقابلہ میںکیا حقیقت رکھتاہے۔پھر اس واقعہ پر غور کرو کہ بڑے بڑے رئوسا اکٹھے ہوکر ابوطالب کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنے بھتیجے کو سمجھالو۔ورنہ ہم تمہیںبھی اپنی سرداری سے الگ کردیں گے اس پر ابو طالب آپ کو بلاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ بتوںکے بارہ میںکچھ نرمی اختیار کرلیںمگر آپ فرماتے ہیںاے چچا اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیںاور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑاکردیں۔تب بھی میں خدا تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔اگر آپ کو اپنی قوم عزیز ہے تو بیشک مجھے چھوڑ دیںاور اپنی قوم سے مل جائیںمیرے لئے میرا خدا کافی ہے (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام مباداة رسول اللہ قومہ و ما کان منہم)۔غرض رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کے دل میں سوائے اس کے اور کوئی خواہش نہیں تھی کہ شرک مٹ جائے اور خدا تعالیٰ کی توحید دنیامیںپھیل جائے۔پھر حدیثوں میں آتاہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ گھبراہٹ میں کبھی اس پہلو پرجھکتے تھے اور کبھی اس پہلو پر اور فرماتے کہ خدا یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کے مرنے کے بعد ان کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا یہ آپ کی آخری وصیت تھی جو آپ نے اپنی امت کو کی اور انہیں کھلے الفاظ میں انتباہ کیاکہ دیکھنا میرے بندے ہونے کو کبھی نہ بھول جانا اور میری قبر کو ایک قبر سے زیادہ کبھی کچھ نہ سمجھنا (بخاری کتاب