تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 355
اس کے مطابق تم لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرو اور اگر دوسرے لوگ اپنے پاس سے کچھ سکیمیں بنا کر تمہارے پاس لائیں تو تم اُ ن کی باتوں کو مت سنواور اُن کی سکیموں کو ہر گز اختیار نہ کروکیونکہ اگر تم دوسرے فلسفیوں کی باتیں مانو گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے جو اعلیٰ درجہ کی تعلیم تمہیں دی ہے تمہیں اُسے چھوڑ نا پڑے گا آخر یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تم اس پر بھی عمل کرو اور اُن کی باتوں پر بھی عمل کرو۔بہرصورت ایک چیز پر ہی عمل ہو سکتا ہے اور جب تم اُن کے پیچھے چلو گے تو اللہ تعالیٰ کی تعلیم اور اُس کے احکام تمہیں چھوڑنے پڑیں گے اور ایک اعلیٰ چیز کی بجائے تمہیں ادنیٰ چیز اختیار کرنی پڑے گی۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ مخاطب گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا گیا ہے مگر مراد آپ کی اُمت ہے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی دشمن کے اثر کو قبول نہیں کر سکتے تھے۔پس آپ کو مخاطب کرکے جو کچھ کہا گیا ہے دراصل اُس میں آپ کی امت سے خطاب ہے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو انتباہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ قرآ ن کریم کے مقابلہ میں دوسرے لوگوں کی کبھی اتباع نہ کرنا۔ورنہ گمراہ ہو جائو گے پھر فرماتا ہےلِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا۔تم میں سے ہر ایک کے لئے الہامی پانی تک پہنچنے کے لئے ہم نے ایک چھوٹا یابڑا راستہ بنایا ہو ا ہے۔کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔کوئی کہتا ہے میں اپنے باپ دادا کی باتیں مانوں گا۔کوئی کہتا ہے میں فلسفیو ں کی باتیں مانوں گا کوئی کہتا ہے میں اقتصادیات کے ماہرین کی باتیں مانوں گا کوئی کہتا ہے میں فن قانون کے ماہر لوگو ں کی باتیں مانو ں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے طریق کارا ور ان لوگوں کے طریق کار میں کوئی مشابہت نہیں۔تم نے یہ کہنا ہے کہ ہم خدا کی باتیں مانیں گے اور انہوں نے یہ کہنا ہے کہ ہم کسی فلسفی یا اقتصادیات کے ماہر یا صناع یا قانون ساز کے پیچھے چلیں گے وہ اور لوگوں کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہیں اور تم اور ہستی کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہو۔و ہ اقتصادیوں اور فلسفیوں او ر مقّننوں کے پیچھے جا رہے ہیں اور تم خدا کے پیچھے جا رہے ہو وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ مگر یا د رکھو۔یہ اختلاف جو دنیا میں پا یا جاتا ہے یہ قیامت تک رہےگا۔تمہاری اُمت خدا تعالیٰ کے پیچھے چلے گی اور دوسرے لوگ اپنے بنائے ہوئے قانونوں کے پیچھے چلیں گے اور کہیں گے کہ فلاں ماہر نفسیات یوں کہتا ہے اُن کے پیچھے چلنا چاہیے۔فلاں مقّنن یوں کہتا ہے اُس کے پیچھے چلنا چاہیے۔فلاں فلسفی یوں کہتا ہے اس کے پیچھے چلنا چاہیے۔فرماتا ہے ہم اگر چاہتے تو دنیا کو مجبور کرکے ایک خیال پر لے آتے ہم میں طاقت تھی کہ ہم دنیا کے فلسفیوں ، موجدو ں یونیورسٹیوں کے پروفیسروں۔مقّننوں اور بڑے بڑے سائینس دانوں کو مجبور کرتے کہ وہ اسلام کے پیچھے چل پڑیں مگر ہم نے ایسا نہیں کیا۔اس لئے کہ مجبور کرنے سے انسان کسی انعام کا مستحق نہیں رہ سکتا۔مثلاً بجلی کا انجن خواہ کتنی تیزی سے چل رہا ہو ہم کبھی اُسے یہ نہیں کہتے کہ چونکہ تم بڑی تیزی سے