تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 353

تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے غلامو ں اور نوکرو ں سے اچھا سلوک کیا کرو۔پھر آپ نے فرمایا آپس میں قوموں کا لڑنا بہت ہی بُرا اور نا پسندیدہ امر ہے۔میں چاہتا ہوں کہ جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ کی حرمت کے متعلق بعض احکام دئیے تھے اسی طرح میں بھی تمہیں بعض احکام دوں۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔میں اس امر کا اعلان کرتا ہوں کہ ہر مسلما ن کی جان اور مال اور عزت اسلامی شریعت کے لحاظ سے محفوظ ہے اس لئے کسی مسلمان کی جان اور مال اور عزت کو تمہارے ہاتھو ں سے نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔پھرچونکہ عربوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر دیر تک لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں اس لئے آپ نے اُن کا بھی ذکر کیا اور فرمایا یہ لڑائیا ں کبھی تو ختم ہو نی چاہئیںورنہ قوم میں کبھی اعلیٰ اخلاق پیدا نہیں ہو سکتے چنانچہ آپ نے فرمایا۔آج کے د ن میں اس مقام پر کھڑے ہو کر اُ ن تمام لڑائیوں کو ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں جو جاہلیت سے چلی آرہی ہیں۔اُس کے ساتھ ہی آپ نے زمین پر اپنا پائو ں مارا اور فرمایا میں اُن تمام لڑائیو ں کو اپنے پائو ں کے نیچے مسلتا ہو ں۔اب پرانی رنجشوں اور لڑائیو ںکی وجہ سے کسی سے بدلہ لینا ہرگز جائز نہیں ہوگا۔اسی مقام پر آپ نے یہ آیت بھی پڑھی اور فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا۔بعض صحابہ ؓ اور بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ قرآ ن کریم کی یہ آخری آیت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔اس کے بعد کوئی اور کلامِ الٰہی نازل نہیں ہوا۔لیکن بعض نے اس سے اختلاف بھی کیا ہے۔بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ نہایت ہی آخری آیتوں میں سے ایک آیت ہے۔اگر یہ سب سے آخر میں نازل نہیں ہوئی تو آخرمیں نازل ہونے والی چند آیتوں میں سے ایک آیت ضرورہے۔اس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شریعت کو مکمل کر دیا گیا ہے۔اب کو ئی نیا حکم نازل نہیں ہو گا اور نہ کوئی ایسا حکم نازل ہو گا جو ان حکموں کو بدل سکے۔اس سے معلوم ہوا کہ شریعت ِ اسلامی ہر لحاظ سے مکمل ہے اور اس کا قانون آخری قانون ہے ہندو ہمار ے اس دعویٰ کو مانیں یا نہ مانیں عیسائی ہمارے اس دعویٰ کو مانیں یا نہ مانیںایک مسلما ن کو بہرحال یہ ماننا پڑے گا کہ احکامِ شریعت کو قرآ ن کریم میں مکمل کر دیا گیا ہے اور دنیا کو جتنے قوانیں کی ضرورت تھی وہ سب اس میں بیا ن کردئیے گئے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسے قوانین بن سکتے ہیں جو وقتی اور مقامی طور پر ضروری ہوں۔ایسے قانون بھی بن سکتے ہیں جو عارضی مشکلات کو دور کرنےوالے ہوں۔جیسے حکومتوں کی آپس میں لڑائیاں ہوں تو انہیں اپنے جھگڑوں کو نپٹانے کے لئے بعض قوانین بنانے پڑتے ہیں یہ شریعت کا کام نہیں کہ وہ یہ بتائے کہ اگر امریکہ اور سپین میں جھگڑا ہو تو اس جھگڑے کو اس طرح دُور کیا جائے۔لیکن جہا ں تک اُن امور کا سوال ہے جن میں قرآن کریم دخل دیتا ہے اور جہاں تک اُن اُمور کا سوال ہے جن میں مذہب