تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 348
ہے۔اگر ہم سوچیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑےگا کہ یا تو اس سے ساری دنیا کے لوگ مراد ہیں یا سارے مسلمان مراد ہیں یا سارے شہر والے مراد ہیں یا سارے محلہ والے مراد ہیں یا اپنی حکومت کے سب افراد مراد ہیں۔بہر حال جب ایک شخص نماز میں’’ ہم‘‘ کا لفظ استعمال کرے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ اپنی دعامیں اُن لوگوں کو بھی شریک کرتا ہے جو اس کے علاوہ ہیں۔وہ نماز میں بڑے جوش اور درد سے یہ دُعا کر رہا ہوتا ہے کہ الٰہی ہماری مدد کر۔الٰہی ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔الٰہی ہمیں بدیوں سے بچا۔الٰہی ہمیں اعلیٰ درجہ کی نیکیوں کی توفیق عطا فرما اور اُس کے پاس کھڑا ہوا ایک دوسرا شخص یہ خیال کر رہا ہوتا ہے کہ نماز جلدی ختم ہو تو میں گھر جائوں۔میں نے جانوروں کو چارہ ڈالنا ہے۔یا میری بیوی بیمار ہے اُس کے لئے ڈاکٹر سے دوائی لانی ہے۔وہ بظاہر نماز پڑھ رہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت اس کی وجہ کسی اور طرف ہوتی ہے اگر اُس کے ساتھ کھڑا ہونے والا مومن بندہ اپنی دعا میں اُسے بھی شریک کر رہا ہوتا ہے جسے نماز کا کچھ بھی خیال نہیں ہوتا جسے نماز میں بھی خدا یاد نہیں آتا۔اور وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہے کہ یا اللہ تواسے بھی ہدایت دے یا اللہ تو اس کے سینہ کو بھی نیکی کے لئے کھو ل دے۔پھر جب ہم نماز میں ’’ہم ‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس میں ہمارے محلہ والے بھی شریک ہوتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ محلہ والوں میں سے چند آدمی تو نماز کے لئے مسجد میں آجاتے ہیں لیکن باقی آدمی اپنے اپنے کاروبار میں مشغول رہتے ہیں اور پھر اُن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ بات بات پر جھوٹ بولتے ہیں کوئی شخص قسم کھا کر کہہ رہا ہو تا ہے کہ میں نے چار آنے کو یہ چیز لی تھی جو سوا چار آنے کو فروخت کر رہا ہوں اور صرف ایک پیسہ نفع لے رہا ہوں۔حالانکہ اُس نے وہ چیز صرف ڈیڑھ آنہ میں لی ہوتی ہے اور اُس کا یہ کہنا کہ میں نے چار آنہ کو یہ چیز لی تھی محض جھوٹ ہوتا ہے۔کوئی شخص کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہ بالکل خالص گھی ہے حالانکہ اُس گھی میں اُس نے خود چربی ملائی ہوتی ہے۔غرض اُس کے دل کے کسی گوشہ میں بھی خدا تعالیٰ کی خشیت نہیں ہوتی مگر ہم اللہ تعالیٰ کے حضور جاتے ہیں تو کہتے ہیںاِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ خدا یا ہمارے محلہ کے وہ آدمی جو غلطی سے نماز میں نہیں آئے اور جو جھوٹ بول بول کر اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں تو اُن کو بھی ہدایت دے اور انہیں سیدھے راستہ پر چلا۔اگر کوئی شخص اس طرح غور کرکے نماز پڑھے تو اس کے دل میں بنی نوع انسان کی محبت کس قدر بڑھ جائےگی۔اُن کی اصلاح کا جذبہ اُس کے دل میں کس قدر ترقی کر جائےگا اور وہ کس قدر تڑپ رکھے گا کہ سب لوگ راہ راست پر آجائیں اور ہر قسم کی بدیوں اور گناہوں سے محفوظ ہو جائیں پھر جو شخص اپنے ہمسایوں اپنے محلہ والوں اور اپنے شہر والوں کے لئے اس طرح دُعائیں کرےگا ضروری ہے کہ اس کی یہ دعائیں کسی دن قبول ہو ں اور اُن کو ہدایت میسر آجائے۔آخر ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ دعا کبھی قبول نہیں ہو سکتی اگر اس دعا نے قبول ہی نہیں ہونا تھا تو