تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 347
کوئی شخص کبھی یہ دُعا کیا کرتا ہے کہ یا اللہ مجھے ہیضہ ہو جائے ؟ وہ کیوں یہ دعا نہیں کرتا اس لئے کہ وہ ہیضہ کو بُرا سمجھتا ہے۔اگر وہ اچھا سمجھتا تو اللہ تعالیٰ سے ضرور مانگتا۔پس وہی چیز انسان اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے جسے وہ اپنے لئے اچھا سمجھتا ہےاور جب وہ کسی چیز کو اچھا سمجھے گا تو لازمًا اُس کو حاصل کرنے کی کوشش بھی کرےگا۔پھر یہیں تک بس نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہے کہ الٰہی مجھے سیدھے راستے پر چلا بلکہ وہ ساتھ ہی یہ دُعا بھی کرتا ہے کہ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۔الٰہی میر ی یہی خواہش نہیں کہ تُو مجھے سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔بلکہ میری یہ بھی خواہش ہے کہ تو مجھے اُن لوگوں کے راستہ پر چلا جو تیرے دربار میں خاص طور پر مقرب ہیں۔میں عام لوگوں کے راستہ پرنہیں چلنا چاہتا۔میں درمیانی درجہ کے لوگوں کے راستہ پر بھی نہیں چلنا چاہتا بلکہ میں اُن اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی خواہش رکھتا ہوں جنہوں نے تجھ سے انعامات حاصل کئے اور جو منعم علیہ گروہ میں شامل ہوئے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ منعم علیہ گروہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔اُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ( النساء :۷۰)یعنی منعم علیہ گروہ وہ ہے جس میں نبی صدیق شہید اور صالح شامل ہیں۔پس یہی نہیں کہ ہر مومن نماز میں پانچ وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کرتا ہے کہ یا اللہ مجھے بدی سے بچا۔یہی نہیں کہ ہر مومن نماز میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہے کہ یا اللہ مجھے نیکی کی توفیق عطا فرما بلکہ ہر مومن نماز میں اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کرتا ہے کہ یا اللہ مجھے موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ والی نیکی دے۔یا اللہ مجھے اُسی طرح گناہ سے بچا جس طرح تُو نے نوح ؑ اور یعقوب ؑ اور یوسف ؑ اور دوسرے انبیاء کو بچا یا۔یہ کتنا بلند مقام ہے جس کو حاصل کرنے کی دُعا سکھائی گئی ہے اور کتنا جوش ہے جو اس میں پایا جاتا ہے۔اگر کوئی شخص سچے دل سے نماز پڑھتا ہے تو لازمی طور پر وہ اس مقام کے حصول کے لئے کچھ تو جدوجہد کرےگا اور جب وہ جدو جہد کرےگا تو لازمی طورپر وہ اُن دوسروں کی نسبت جن کے دلوں میں یہ جوش نہیں پایا جاتا بہتر حالت میں ہوگااور اس دُعا کے نتیجہ میں وہ ہر قسم کی بدیوں سے بچ جائےگا اور ہر قسم کی نیکیوں کو حاصل کر لے گا۔پھر ہمیں کہا گیا ہے کہ ہم نماز میں اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کیا کریں کہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ اے خدا ’’ ہم‘‘ تیری عبادت کرتے ہیں اور اے خدا ’’ہم‘‘ تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔اسی طرح اگلی آیت میں یہ دُعا سکھائی گئی ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔اے خدا ’’ہم‘‘ کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔اب نماز میں دُعا مانگنے والا شخص تو ایک ہوتا ہے مگر وہ بار بار’’ ہم‘‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔وہ کہتا ہے اے خدا ’’ ہم‘‘ تیری عبادت کرتے ہیں ’’ہم‘‘ تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں۔’’ہم‘‘ تجھ سے دُعا کرتے ہیں کہ ’’ہم‘ ‘ کو سیدھا راستہ دکھا۔ہمیں غور کر نا چاہیے کہ اس سے کیا مراد ہے اور کیوں ہمیں بار بار’’ ہم‘‘ کالفظ استعمال کرنے کی تاکید کی گئی