تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 334

اسی طرح اُن کا یہ بھی فرض تھا کہ وہ مشرقی ممالک کے یہود کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور وہ اُن کی آواز پر لبیک کہتے۔کیونکہ مسیح کے نزدیک فلسطین کی بھیڑوں نے تو اُسے کم مانا تھا لیکن دوسری بھیڑوں نے اُس کی آواز پر بہت جلد جمع ہو جانا تھا۔ان پیشگوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کئے کہ فلسطین میں اُن کے خلاف مخالفت کی ایک عام رو چل پڑی۔یہاں تک کہ حکومت کی طرف سے آپ پر بغاوت کا مقدمہ دائر کیا گیا اور اس کے لئے پھانسی کی سزا تجویز ہوئی مگر جس طرح اللہ تعالیٰ نے یوناہ نبی کو موت کے مونہہ سے بچالیا تھا اسی طرح حضرت مسیح ؑ کو بھی اس نے صلیبی موت سے بچا لیا اور چونکہ اس کے بعد وہ اپنے ملک میں نہیں رہ سکتے تھے کیونکہ حکومت کی طرف سے جسے پھانسی کا حکم مل چکا ہو وہ اگر بچ بھی رہے تو دوبارہ تختۂ دار پر لٹکایا جاتا ہے۔اس لئے انہوں نے اس ملک کو چھوڑ دیا اور باوجود اس کے کہ فلسطین سے افغانستان اور کشمیر تک کا راستہ بڑا ہولناک تھا پھر بھی وہ ہجرت کرکے ان ممالک میں آئے اور جیسا کہ قرآن کریم بتاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے کشمیر کو دارالہجرت بنایا جو ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ کا مصداق تھا۔یعنی وہاں انہوں نے بغیر کسی مزاحمت کے امن و عافیت کے ساتھ رہائش اختیار کر لی اور پھر یہ جگہ ایسی تھی جہاں نہ صرف صاف پانی کے چشمے تھے بلکہ یہ علاقہ اپنی ٹھنڈک اور سرسبزی و شادابی میں ملک شام کی مانند تھا جہاں پہنچ کر اُن کی تمام کلفتیں دور ہوگئیں اور وہ ایک سو بیس سال کی عمر تک خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں کو پہنچاتے رہے (کنز العمال کتاب الفضائل، من قسم الافعال، الباب الثانی فی فضائل سائر الانبیاء)اور آخر انہوں نے یہیں وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خان یار میں دفن ہوئے جہاں آج تک اُن کی قبر پائی جاتی ہے۔يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّيْ (اور ہم نے کہا) اے رسولو! پاک چیزوں میںسے کھائو اور مناسب حال عمل کرو۔(اور) میں اُس کو جو تم کرتے ہو بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌؕ۰۰۵۲وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً جانتا ہوں۔اور یہ تمہاری جماعت (یعنی نبیوںکی) ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس مجھے ہلاکت وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ۰۰۵۳فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ سے بچنے کے لئے اپنی ڈھال بنائو۔جس پر انہوں نے (یعنی کفار نے) شریعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور جو ٹکڑا