تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 317

ذریعہ آپ کو اپنی کامیابی کی خوشخبری ملنا بتاتا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک ایسی جماعت عطا کی جائےگی جو اپنے ایمان میں مضبوط اور قربانی اور اطاعت میں حدِ کمال کو پہنچی ہوئی ہوگی اور کسی قسم کی تکلیف اُسے جادۂ حق سے منحرف نہیں کر سکے گی۔یہی خوشخبری حضرت نوح ؑ کو زیتون کی پتی کے ذریعہ دی گئی ہے اورانہیں کشتی سے اُترنے سے پہلے پہلے اپنی جماعت کی آئندہ ترقی اور اُس کے ایمان کی مضبوطی کی خبر دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ اُس خدا کا شکر ادا کر جس نے اپنے فضل سے تمہارے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچا یا۔وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِيْنَ۔اس جگہ اگر ظاہری کشتی مراد لی جائے تو اس کے معنے یہ ہوںگے کہ تُو دُعا کرتا جا کہ یہ کشتی اُس جگہ ٹھہرے جو ہمارے لئے مبار ک ہو اور اگر جماعت مُراد ہو تو اس کے یہ معنے ہوںگے کہ تُو دعا کرتا رہ کہ اے اللہ ! میری جماعت اپنے مقصد کو پالے اور ایسی ترقی اس کو حاصل ہو جو اس کے لئے دینی اور دنیوی طورپر مبارک ہو۔قرآن کریم نے اُس مقام کا نام جہاں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ٹھہری تھی جودی بتا یا ہے (ہود :۴۵) لیکن بائیبل اُس کا نام اراراط بتا تی ہے۔چنانچہ پیدائش میں لکھا ہے۔’’ ساتویں مہینہ کی سترھویں تاریخ کو کشتی اراراط کے پہاڑوں پر ٹک گئی۔‘‘ ( پیدائش باب ۸ آیت ۴) ان دونوں ناموں کو دیکھنے سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ نام ہیں لیکن اگر غور کیا جائے تو اِن دونوں میں کوئی حقیقی اختلاف نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جُود کے معنے عربی زبان میں رحمت اور احسان کے ہوتے ہیں۔(تاج)پس اس مقام کا نام اللہ تعالیٰ نے جُودی رکھ کر اس طرف اشارہ کیا کہ وہ میری رحمت اور احسان کے ظہور کا مقام اور اس کی تجلی گاہ تھا۔اور یہی معنے اَرَا رَاط کے بھی ہیں۔کیونکہ رَاطَ کے معنے ہوتے ہیں۔اُس نے پناہ چاہی (اقرب)اور اراراط کے معنے ہوئے میں پناہ کی جگہ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں۔گویا بائیبل اُسے پناہ کی جگہ قرار دیتی ہے اور قرآن اُسے خدا تعالیٰ کی رحمت اور احسان کے ظہور کا مقام بتاتا ہے۔جہاں حضرت نوح علیہ السلام کو پناہ ملی اور دشمنوں کے شر سے محفوظ ہوگئے۔پس ان دونوں ناموں میں کوئی حقیقی اختلاف نہیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِيْنَ۔یعنی یہ واقعہ ایک قصہ اور کہانی کے طور پر بیان نہیں کیا گیا بلکہ اس میں بہت سے نشانات ہیں اور ہم یقیناً اپنے بندوں کا خیر اور شر کے ساتھ امتحان لینے والے ہیں یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی قوم کے ساتھ بھی ایسے ہی حالات پیش آنے والے ہیں۔