تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 315
رہو۔تاکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو حاصل ہو اور خدا کا عذاب تمہارے دشمنوں پر نازل ہو۔اگر تم دشمن کے ساتھ مل کر رہو گے تو تمہارے دشمن پر بھی خدا عذاب نہیں بھیجے گا۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِيْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۠ (الانفال : ۳۴)یعنی اللہ انہیں اس حالت میں کبھی عذاب نہیں دے سکتا جب تک تُو ان میں ہو اور نہ اللہ تعالیٰ اُن کو ایسی حالت میں عذاب دے سکتا ہے جبکہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔اس آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنے اہل کوبھی کشتی میں بٹھا لے تو اس سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تعریف نکلتی ہے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کا مثیل قرار دیا ہے اور آپ ؐ حضرت نوح ؑ کے بھی مثیل تھے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اس طرح عمل کیا کہ ہجرت میں حضرت ابوبکر ؓ کو ساتھ رکھا جس کے معنے یہ ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ آپ کے اہل میں شامل تھے۔پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نعوذ باللہ منافق اور زیرِ عتاب تھے وہ غلط کہتے ہیں اور اگر ایسا ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے خلاف ان کو ہجرت میں ساتھ کیوںرکھتے ؟ پھر فرماتا ہے۔وَ لَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ۔ظالموں کے متعلق مجھ سے کوئی بات نہ کر کیونکہ وہ ضرور غرق کئے جائیں گے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جبکہ کفار کی تباہی کا آخری فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔اُس وقت اُن کے لئے دُعا کرنے کی بھی نبی کو اجازت نہیں ہوتی۔جیسا کہ قرآن کریم میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی تباہی کے ذکر میں بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ خبر ملی کہ قومِ لوط کی تباہی کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور اُس کے ساتھ ہی انہیں حضرت اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ کی پیدائش کی بھی خوشخبری ملی تو یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍ (ہود:۷۵)حضرت ابراہیم علیہ السلام قومِ لوط کے متعلق اللہ تعالیٰ سے جھگڑنے لگے۔یعنی انہوں نے دُعا کرنی شروع کر دی کہ الٰہی اس قوم کو بچا لے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں الہامًا فرما یا کہ يٰۤاِبْرٰهِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِيْهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُوْدٍ(ھود:۷۷)۔یعنی اے ابراہیم !تُو اب اس سفارش سے رک جا۔کیونکہ تیرے رب کا آخری حکم آچکا ہے اور ان کفار کی ایسی حالت ہے کہ ان پر نہ ٹلنے والاعذاب آکر رہے گا۔گویا ایک مقام ایسا آیا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دعا کرنے سے بھی منع کر دیا گیا۔اس آیت میں ظَلَمُوْا کا لفظ استعمال فر ما کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف بھی اشارہ فر مایا ہے کہ وہ بلا وجہ لوگوں کو عذاب سے ہلاک نہیں کیا کرتا بلکہ اُن کی ہلاکت اُن کے متواتر ظلموں کا نتیجہ ہوتی ہے۔آج تک جس قدر قومیں دنیا میں ہلاک ہوئی ہیں محض اس لئے ہلاک ہوئی ہیں کہ وہ ظالم بن گئی تھیں۔یعنی یا تو انہوں نے دینی احکام کو نظر انداز کر