تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 308
کے لئے انسان سے بالا کوئی وجود آنا چاہیے لیکن باوجود اس اعتراض کے خدا ہمیشہ انسانوں کو ہی لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجتا رہا۔کیونکہ اگر رسول کسی غیر جنس میں سے ہو تو وہ بنی نوع انسان کے لئے نمونہ نہیں بن سکتا۔جس طرح ایک انسان شیر کی نقل نہیں کر سکتا اور نہ شیر انسان کی نقل کر سکتا ہےاور یا پھروَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً کے ایک یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ اس کے ساتھ فرشتے کیوں نہیں اُترے کہ اُن کودیکھ کر ہم سمجھ جاتے کہ یہ سچا ہے اس میں اُن کی اس جہالت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے پہلے لوگوں سے یہ سُن کر کہ نبیوں پر فرشتے اُترا کرتے تھے یہ سمجھ لیا کہ وہ دوسروں کو بھی نظر آتے تھے۔چنانچہ انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دینا چاہتا تو جس طرح پہلے لوگوں کے ساتھ فرشتے آیا کرتے تھے اسی طرح اس کے ساتھ بھی فرشتے اُترتے۔ایسا خاموشی سے آنے والا نبی تو ہم نے کبھی نہیں سنا۔مگر ان مخالفتوں کے باوجود ہمیشہ انبیاء کی تعلیم ہی کامیاب ہوتی رہی ہے۔کیونکہ ماننے کے قابل وہی بات ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اور وہ جس وجود میں بھی انسان کو آواز دے اُس کا فرض ہے کہ اُ س کی سُنے اور غلط حریت اور مادرپدر آزادی کو اپنے لئے لعنت کا طوق سمجھے۔پھر فرماتا ہے کہ جب نوح ؑ کے مخالفوں نے دیکھا کہ ہمارے ان حریت کے بلند بانگ دعاوی کے باوجود کچھ نہ کچھ لوگ اس کی جماعت میں شامل ہوتے جا رہے ہیں تو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ کہ اس آدمی کے ساتھ تو کوئی جنوں کا تعلق ہے مذہبی آدمی نہیں۔اس کی کامیابی کو محض جنوں کی کامیابی کہنا چاہیے۔خدائی نصرت نہیں کہنا چاہیے۔فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِيْنٍ۔پس کچھ دن انتظار کرو اور دیکھو کہ اس کا کیا انجام ہوتا ہے۔یہ بھی وہی ہتھیار ہے جو ہر زمانہ میں انبیاء کے مخالفین استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مخالفین نے مجنون کہا۔اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ پر جن آتے تھے(السیرة النبویۃ لابن ہشام ذکر ما لقی رسول اللہ من قومہ)۔عیسائی پادری جب دیکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخالفین نے مجنون کہاتو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور کہتے ہیں کہ اگر آپ میں کوئی دماغی نقص نہیں تھا تو دشمن نے آپ کو مجنون کیوں کہا؟(A Comprehensive Commentary on the Quran vol:3 p۔15) وہ اس امر کو بھول جاتے ہیںکہ خود مسیح ؑ جن کو وہ ابن اللہ قرار دیتے ہیں اُن کو بھی لوگوں نے دیوانہ اور مجنون قرار دیاتھا۔چنانچہ انجیل میں لکھا ہے کہ ’’ ان باتوں کے سبب یہودیوں میں پھر اختلاف ہوا۔اُن میں بہتیرے تو کہنے لگے کہ اس میں بد رُوح ہے (یعنی اس پرجنّ آتے ہیں ) اور وہ دیوانہ ہے۔تم اُس کی کیوں سنتے ہو۔‘‘ (یوحنا باب ۱۰ آیت ۱۹، ۲۰)