تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 306

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا اور ہم نے نوح ؑکو اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا پس اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۰۰۲۴فَقَالَ الْمَلَؤُا اور کوئی تمہارا معبود نہیں۔کیا تم اس کا تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔اس پر اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ يُرِيْدُ نے کہا یہ شخص تو فقط تمہارے جیسا ایک انسان ہے (اور) چاہتا ہے کہ تم پر فضیلت اختیار کرے۔(اور) اگر اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً١ۖۚ مَّا اللہ (تعالیٰ) پیغمبر بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو اتارتا۔ہم نے اپنے پہلے باپ دادوں میں تو کوئی اس قسم سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَۚ۰۰۲۵اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ کا واقعہ ہوتا سُنا نہیں یہ تو فقط ایک انسان ہے جس کو جنون ہو گیا ہے پس اس کے جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِيْنٍ۰۰۲۶ انجام کا کچھ دیر انتظار کرو۔حلّ لُغَات۔الجِنَّۃُ۔اَلْجِنَّۃُ: طَائِفَۃٌ مِنَ الْجِنِّ یعنی جنوں کا ایک گروہ۔اِسْمٌ مِنَ الْجُنُوْنِ۔دیوانگی اور پاگل پن (اقرب) تفسیر۔انبیاء اور خلفاء کے دشمن ہمیشہ حریت کے نام پر اُن کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ کیا اپنے جیسے انسان کو ہم اپنا حاکم تسلیم کر لیں؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ شخص ہم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔یعنی ایسا خلیفہ جو ساری جماعت کی راہنمائی کرے اور جس کا حکم سب مانیں انسانیت اور حریت کے خلاف ہے۔چنانچہ دیکھ لو جب اللہ تعالیٰ نے نسلِ انسانی کو آدم ؑ کی اطاعت اور اُس کی کامل فرمانبرداری کا حکم دیا تو اُس وقت بھی حریت کے نام پر ابلیس آدم کے مقابلہ میں کھڑا ہوگیا اور اُس نے کہا اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ ( ص :۷۷)