تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 305

پایا جاتا ہے۔بے شک مادیات کا بوجھ بعض دفعہ اس کی اس فطرتی طاقت کو دبا دیتا ہے مگر اس کی جدوجہد بتا رہی ہے کہ جب اس کا شعوری دماغ غافل ہوتا ہے تو اُس کا غیر شعوری دماغ اپنے کام میں مشغول ہوتا ہے۔اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے کئی قسم کے راستے تلاش کرتا رہتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو دہریہ خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار کرتا ہے مگر بسا اوقات جب کوئی اچانک مصیبت آتی ہے تو اُس کے مُنہ سے بھی اللہ تعالیٰ کا نام نکل جاتا ہے اور وہ اُسی کو اپنی مدد کے لئے پکارنے لگ جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی فطرت بھی خدا تعالیٰ کو تسلیم کرتی تھی مگر مادیات کے بوجھ نے فطرت کو مسخ کردیا اور اُس پر کئی قسم کے پردے ڈال دیئے مگر جونہی وہ پردے ہٹے فطرت کا نُور پھر چمک اُٹھا اور اُس نے خدا کو پکارنا شروع کر دیا۔غرض ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنی ملاقات کی ایک تڑپ رکھی ہے۔مگر انسانی جدوجہد بتا رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا الہام اُس کی راہنمائی کے لئے نازل نہ ہوتا تو وہ اسی طرح بھول بھلیوں کے چکر میں پھنسا رہتا اور وہ خدا تعالیٰ کو کبھی نہ پا سکتا۔خدا تعالیٰ نے اُس پر یہ احسان کیا ہے کہ اُس نے اپنے نبیوں کی معرفت اُسے وہ راستہ دکھایا جس پر چل کر وہ آسانی سے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا اور ہر قسم کے مصائب سے امن حاصل کر سکتا ہے۔یہی مضمون ایک تمثیلی زبان میں اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بیان فرمایا ہے اور بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ کیا تم دودھ کو نہیں دیکھتے وہ کتنا لذیذ اور تمہاری طاقتوں کے نشوونما کے لئے کتنی مفید چیز ہے لیکن یہ دودھ تم نہیں بناتے بلکہ خدا خود جانور کی مشین میں گھاس ڈالتا اور اُس سے دودھ پیدا کرتا ہے۔اسی طرح بےشک تمہارے اندر بھی عقل پائی جاتی ہے مگر وہ گھاس کی طرح ہے جب تک تمہاری عقل پر الہام کا پانی نازل نہ ہو اُس وقت تک وہ گھاس کی طرح ایک ذلیل چیز ہے۔لیکن جب خدا تعالیٰ اپنا الہام نازل کرتا ہے تو اُس سے دودھ کی طرح ایک قیمتی تعلیم دنیا کے سامنے آتی ہے جو بنی نوع انسان کے دماغی اور عقلی قویٰ کو نشوو نما دے کر انہیں ایسے بلند مقام پر پہنچا دیتی ہے کہ وہ خود وحی والہام کے مورد ہو جاتے ہیں اور انسان اپنی پیاس میں تسکین اور اپنی رُوح میں ایک نئی چمک محسوس کرتا ہے۔