تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 304

دیکھ کر تمہیں غیب کی خبریں بتا سکتا ہوں تو بڑے بڑے لائق وکیل اور گریجوایٹ اور ڈاکٹر اور انجنئیر اُس کے سامنے بیٹھ جائیں گے اور کہیں گے ہمارا ہاتھ دیکھ کر ہمیں بتائو کہ ہمارا مستقبل کیسا ہےاور پھر وہ جو کچھ بتاتاہے۔اُسے پتھر کی لکیر سمجھ لیتے ہیں۔اُن کی یہ کیفیت بتاتی ہے کہ فطرتی طور پر انسان کے اندر ایک پیاس رکھی گئی ہے اور وہ کائنات عالم کی حقیقت اور اُس کے راز معلوم کرنا چاہتا ہے۔بےشک انہوں نے سینکڑوں سالوں تک سمندروں پر حکمرانی کی۔انہوں نے ایک ایک چلّو پانی کو چھان مارا اور سب گہرائیوں کو دریافت کیا انہوں نے موتی نکالنے کے لئے سمندروں کی تہ میں غوطے لگائے اور فضائے آسمانی کی بلندیوں کے راز معلوم کرنے کے لئے آسمان کی طرف اپنے تیر پھینکے۔اُن کے بیڑوں نے جزیروں کی تلاش میں زمین کا چپہ چپہ دیکھ مارا اور ملکوں پر قبضہ کر لیا۔مگر اُن کا غیب معلوم کرنے کے لئے اپنے ہاتھ دکھانا صاف بتا رہا ہے کہ یہ مادی علوم اُن کو مطمئن کرنے سے قاصر رہے ہیں اور وہ ماوراء الطبیعات علوم کے حصول کی ایک تڑپ اس لا مذہبیت میں بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں۔یہی تڑپ اور پیاس ہے جو انسان کو کبھی کسی راستہ پر لے جاتی ہے اور کبھی کسی راستہ پر۔کوئی ستاروں کو دیکھ کر آئندہ کے حالات معلوم کرنا چاہتا ہے۔کوئی پامسٹری کو علمِ غیب کے حصول کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے۔کوئی تسبیح کے منکوں سے اپنی کامیابی یا ناکامی کی فال لیتا ہے۔اگر طاق منکا آجائے تو کہتا ہے کامیابی یقینی ہے۔جفت آجائیں تو سر نیچے ڈال لیں گے اور کہیں گے ناکامی یقینی ہے۔عرب کے رہنے والے کبھی تیروں سے فال لیتے تھے اور کبھی پرندوں کی شکلوں اور اُن کی آوازوں سے مختلف قسم کے نتائج اخذ کرتے تھے اگر اُلّو اُن کی دیوار پر آبیٹھتا تو وہ سمجھتے کہ اب ہمارے لئے ویرانی اور بربادی مقدر ہے اور اگر کوا آبیٹھتا تو سمجھتے کہ کوئی سفر پیش آنے والا ہے۔غرض یہ خواہش کہ کائنات کے راز اور عالمِ بالا کے اسرار کس طرح منکشف ہوں ہر انسان کے اندر فطرتی طورپر پائی جاتی ہے اور یہ خواہش اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ ہمارے ملک میں کئی لوگ ایسے دکھائی دیتے ہیں جو جنات کو قابو کرنے کے لئے مختلف قسم کی چلّہ کشیاں کرتے رہتے ہیں۔اگر انہیں معلوم ہو کہ کسی شخص کے قبضہ میں جِن ہیں تو وہ دور دراز کا سفر کر کے بھی اس کے پاس پہنچیں گے۔اُس کی منتیں کریں گے اور اُس سے عاجز انہ التجائیں کریںگے کہ وہ انہیں بھی ایسا طریق بتا دے جس سے جنات قابو میں آجائیں اور وہ اُن کی مدد سے اپنی تمام مشکلات کو دور کر سکیں۔کوئی اسم اعظم کی دریافت کے پیچھے لگا ہوا ہے اور کوئی عملِ حبّ اور عمل تسخیر کو دریافت کرنے کے لئے مارا مارا پھر رہا ہے۔اگر مادی علوم ہی انسان کی پیاس بجھانے کے لئے کافی تھے تو کیا وجہ ہے کہ یورپ کا عقلمند بھی ان باتوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور ایشیا کا جاہل بھی ان علوم کے حاصل کرنےکا متمنّی ہے۔یہ نظارہ بتاتا ہے کہ ہر انسان کے اندر فطرتی طور پر ایک بالا طاقت کا احساس