تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 302

ہوئے فرمایا کہ اِنّ اللہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا ( ابوداؤد کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قرن المئة)یعنی اللہ تعالیٰ میری امت میں ہر صدی کے سر پر ایسے مصلحین کھڑا کرتا رہے گاجو اُن خرابیوں کو دُور کر دیا کریں گے جو مرور زمانہ کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوںگی اور اس طرح اسلام کا پاک اور بے عیب چہرہ لوگوں کے سامنے بار بار آتا رہے گا۔اس جگہ زیتون کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ علاوہ اس کے کہ وہ ایک پھل کا کام دیتا ہے۔اس کا تیل اچار میں بھی ڈالا جاتا ہے جو اس کو دیر تک قائم رکھتا ہے۔اس طرح تمثیلی زبان میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اسلام کے ذریعہ ہم نہ صرف اس کے تازہ پھل تمہیں کھلا ئیں گے بلکہ ہم تمہارے اندر اس تعلیم کو قائم کریں گے جو سڑنے اور خراب ہونے سے محفوظ ہوگی۔چنانچہ دیکھ لو موسوی اور عیسوی تعلیمیں بے کار ہوکر رہ گئیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تعلیم لائے وہ اب بھی قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گی اور کوئی شخص اس قرآن کا ایک شوشہ بدلنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔وَ اِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ اور تمہارے لئے چارپایوں میں بڑی عبرت ہے۔ہم تم کو اس چیز سے جو اُن کے پیٹ میں ہوتی ہے پلاتے ہیں بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ وَّ مِنْهَا اور ان چارپایوں میں تمہارے لئے اور بھی بہت سے نفعے ہیں اور تم ان میں سے بعض کو کھاتے ہو۔تَاْكُلُوْنَۙ۰۰۲۲وَ عَلَيْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؒ۰۰۲۳ اور ان پر اورکشتیوں پر اٹھائے جاتے ہو۔تفسیر۔فرماتا ہے جس طرح تم دیکھتے ہو کہ مُردہ مٹی میں سے ہم گھاس نکالتے ہیں جسے جانورکھاتے ہیں اور پھر وہ اس کے پیٹ کے راستہ سے تمہارے لئے عمدہ غذا بن جاتا ہے۔اسی طرح انسانی عقل بیشک طرح طرح کی تدبیریں نکالتی ہے۔لیکن ان تدبیروں کو اعلیٰ درجہ کا مفید اور بے عیب بنانا خدا کا کام ہے۔جو خدا گھاس کو جانور کی مشین میں ڈال کر دودھ بنا کر نکا لتا ہے وہی خدا جب ایک کامل دماغ پر اپنا پرتو ڈالتا ہے اور اعلیٰ الہام سے اُس کی