تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 301
تاریکی کے زمانہ میں جبکہ روحانیت کے متلاشی اندھوں کی طرح مارے مارے پھر رہے ہوںگے۔اللہ تعالیٰ مشرق کی سرزمین سے اپنا ایک مامور مبعوث فرمائےگا جس کی نورانی کرنوں سے وساوس اور شکوک کی تاریکیوں کو پھاڑ دیا جائےگا۔خشک زمین کو سیراب کیا جائےگا اور روحانیت اور تقویٰ کی روئیدگی کو نکالا جائےگا۔تاکہ وہ دنیا جو ایک خشک جنگل کی طرح ہوگئی تھی ایک شاداب کھیت کی طرح ہو جائے اور لوگ زندگی اور خوشی کا سانس لینے لگیں اور تاکہ لوگ اُس حقیقی راحت کو پالیں جو خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کی لقاکے بغیر کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔چنانچہ وہ زمانہ آگیا جس میں اسلام کے دوبارہ احیاء کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔اُس کی رحمت کا دریا دِلوں کی خشک زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے اپنے کناروں سے اچھل کر بہ پڑا ہے۔اب وہی لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں جو اس آسمانی پانی سے فائدہ اٹھائیں اورابٰی اور استکبار سے کام نہ لیں۔پھر فرماتا ہے جس طرح تازہ اُترنے والے مادی پانی سے کھجور اور انگور اور دوسرے پھل پیدا ہوتے ہیں اسی طرح تازہ اُترنے والے روحانی پانی سے بھی قسم قسم کے اعلیٰ درجہ کے پھل پیدا ہوتے رہیں گے۔ان پھلوں میں سے کچھ تو تم کھاتے ہو اور کچھ دوسرے کاموں میں استعمال کرتے ہو۔جیسے اس درخت کا پھل جو طورِ سینا سے نکلتا ہے اور جس میں تیل بھی پایا جاتا ہےاور جو کھانے والوں کے لئے سالن کے کام بھی آتا ہے۔یعنی زیتون۔ان آیات میں اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اسلام کے دوبارہ احیاء کے سلسلہ میں بیان کیا جا رہا ہےاور بتایا گیا ہے کہ تم اسلام کو ایک بے ثمر باغ تصور مت کرو۔بلکہ یاد رکھو کہ یہ وہ باغ ہے جو ہر زمانہ میں اپنے تازہ پھل لوگوں کو کھلاتا رہے گااور جب بھی اسلام میں کوئی خرابی واقعہ ہو گی اُس کو دور کرنے کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی غلام جو آپ کی ہی روحانیت کا پھل ہوگا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوکر اُس خرابی کو دور کر دے گا۔چنانچہ موجودہ زمانہ میں جبکہ دُنیا معجزات و نشانات کا انکار کر رہی تھی بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے مخالفینِ اسلام کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا؎ کرامت گرچہ بے نام و نشان است بیابنگر ز غلمانِ محمّدؐ (استفتاء ،روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۱۲۳) یعنی اس زمانہ میں اگر تمہیں معجزات و نشانات کاکوئی نمونہ نظر نہیں آتا تو تم آؤ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں سے ان کرامات کا مشاہدہ کر لو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا ذکر کرتے