تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 296
کرنےوالا مجھ پر حملہ نہیںکرتا۔بلکہ خدا پر حملہ کرتا ہے اور کون ہے جو خدا پر اپنے حملہ میں کامیاب ہو سکے۔غرض یہ وہ سات مقامات ہیں جو روحانی ترقی کے حصول کے لئےاللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں اور جن کو درجہ بدرجہ طے کرتے ہوئے انسان اللہ تعالیٰ کے قریب پہنچ جاتا ہے اور اس کی لازوال محبت کو حاصل کر لیتا ہے۔وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اور ہم نے آسمان سے ایک اندازہ کے مطابق پانی اُتارا ہے۔پھر اُس کو زمین میں ٹھہرا دیا۔اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ۰۰۱۹فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ اور ہم اُس کے فنا کرنے پر بھی قادر ہیں۔پھر ہم نے تمہارے لئے اُس سے مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِيْهَا فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ وَّ مِنْهَا باغات بنائے کھجور کے(بھی) اور انگوروں کے( بھی) اُن میں تمہارے لئے بہت سے پھل تَاْكُلُوْنَۙ۰۰۲۰وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَآءَ تَنْۢبُتُ (پیدا کئے گئے) ہیں۔اور اُن سے تم کھاتے ہو۔اور (ہم نے تمہارے لئے) وہ درخت بھی(پیدا کیا ہے) جو بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِيْنَ۰۰۲۱ طورِ سینا سے نکلتا ہے جو اپنے اندر تیل لےکراُگتا ہے اور کھانے والوں کے لئے سالن لے کر( بھی)۔حلّ لُغَات۔الدُّھْن۔دُھْنُ السِمْسِمِ وَ غَیْرِہٖ: زَیْتُہٗ یعنی تِلوں اور دوسرے بیجوں کے تیل کو عربی زبان میں دُھن کہتے ہیں۔(اقرب) الصِبْغ۔اَلصِّبْغُ: مَایُصْطَبَغُ اَیْ یُؤْ تَدَمُ بِہٖ مِنِ الْاِدَامِ۔یعنی وہ سالن جسے کھانے کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔ہم نے آسمان سے روحانی زندگی کا پانی ایک اندازہ کے مطابق اتارا ہے اور پھر اس کو زمین میں ٹھہرا دیا ہے۔لیکن اگر لوگوں نے اس آسمانی پانی کی قدر نہ کی تو ہم اس کو اس دنیا سے غائب کر دینے پر بھی