تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 26
کہیںگے یانہیں اور پاگل خداہو ہی نہیںسکتا۔یاتو پاگل کہلا کر وہ خدانہ رہے گایا ایسے پاگل دنیامیں وہ اودھم مچادیں گے کہ دنیاہی تباہ ہوجائے گی۔یہی جواب سندھی مولوی صاحب کو دینا مناسب تھا۔مگر اس وقت انہوں نے بحث کرنے سے انکار کردیا حقیقت یہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود ہیں یعنی کامل القویٰ ہستیاں موجود ہیںتو دنیاکے کام کومل کر چلانا جبکہ ان میں سے ہر ایک اس کام کو چلا سکتاہے ان کو پاگل ثابت کرےگااور خدائی سے ان کو جواب مل جائےگا اور اگر خدائی سے جواب نہ ملے گا تو ماننا پڑےگا کہ یہ پاگل دنیاکو تباہ کرکے رکھ دیںگے۔پس یہ آیت بڑی سچی ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔محض ادھوری منطق کے ذریعہ اس پراعتراض کیا جاتا ہے۔فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ۔اس آیت میں بتایاکہ اگر یہ لوگ عقل سے کام لیں تو ہماری اوپر کی دلیل اتنی مضبوط ہے کہ ان کو رب العرش خدایعنی دنیاپرحکمران خداکے پاک ہونے اور ایک ہونےکااقرار کرنا پڑے گا۔لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَ هُمْ يُسْـَٔلُوْنَ۰۰۲۴اَمِ اتَّخَذُوْا جو کچھ وہ کرتا ہے اس کے متعلق وہ کسی کو جواب دہ نہیںہوتا۔حالانکہ وہ( لوگ) جوابدہ ہوتے ہیں۔کیا انہوںنے اس کے مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ سوا معبود بنالئے ہیں؟ تو کہہ دے اپنی دلیل لائو۔یہ( قرآن) تو ان کے لئے بھی جومیرے ساتھ ہیں شرف مَّعِيَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ کاموجب ہے اور جو مجھ سے پہلے گذر چکے ہیں ان کے لئے بھی شرف کاموجب ہے لیکن ان میںسے اکثر فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ۰۰۲۵ حق کو پہچانتے نہیں اس لئے اس سے اعراض کرتے ہیں۔حل لغات۔ذِکْرٌ اَلذِّکْرُکے معنے ہیں اَلثَّنَاءُ تعریف اَلشَّرَفُ شرف اَلْکِتَابُ فِیْہ ِتَفْصِیْلُ