تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 288

چھوڑ رہے ہیں کہ تم اور تمہارے بھائی ہمیں خدائے واحد کی عبادت آزادی سے نہیں کرنے دیتے تو اُس نے منہ پھیر لیا اور کہا۔اچھا جائو خداتمہارا حافظ ہو۔اُس کی آواز میں ارتعاش تھا اور میں سمجھتی ہوں کہ اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ضرور کسی دن مسلمان ہو جائےگا(السیرۃ الحلبیۃ باب الھجرة الاولیٰ الی ارض الحبشة)۔دن اسی طرح گذرتے چلے گئے اور حضرت عمر ؓ اسلام کی برابر سختی سے مخالفت کرتے رہے۔ایک دن اُن کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ اس مذہب کے بانی کا ہی کام تمام کرد یا جائےاور اس خیال کے آتے ہی انہوں نے تلوار ہاتھ میں لی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔راستہ میں کسی نے پوچھا۔عمرؓ کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارنے کے لئے جا رہا ہوں۔اُس شخص نے ہنس کر کہا۔اپنے گھر کی تو پہلے خبر لو۔تمہاری بہن اور بہنوئی تو اس پر ایمان لے آئے ہیں۔حضرت عمر ؓ نے کہا یہ جھوٹ ہے۔اُس شخص نے کہا تم خود جا کر دیکھ لو۔حضرت عمر ؓ وہاں گئے دروازہ بند تھا اور اندر ایک صحابی ؓ قرآن کریم پڑھا رہے تھے۔آپ نے دستک دی۔اندر سے آپ کے بہنوئی کی آواز آئی۔کون ہے؟ عمرؓ نے جواب دیا عمرؓ۔انہوںنے جب دیکھا کہ حضرت عمر ؓ آئے ہیں اور وہ جانتے تھے کہ آپ اسلام کے شدید مخالف ہیں تو انہوں نے صحابی ؓ کو جو قرآن کریم پڑھا رہے تھے کہیں چھپا دیا۔اسی طرح قرآن کریم کے اوراق بھی کسی کو نہ میں چھپا کرر کھ دیئے اور پھر دروازہ کھولا۔حضرت عمرؓ چونکہ یہ سُن کر آئے تھے کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں اس لئے انہوں نے آتے ہی دریافت کیا کہ دروازہ کھولنے میں دیر کیوں کی ہے۔آپ کے بہنوئی نے جواب دیا۔آخر دیر لگ ہی جاتی ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا یہ بات نہیں کوئی خاص امر دروازہ کھولنے میں روک بنا ہے۔مجھے آواز آرہی تھی کہ تم اُس صابی کی باتیں سن رہے تھے (مشرکین مکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صابی کہا کرتے تھے) انہوں نے پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن حضرت عمرؓ کو غصّہ آیا اور وہ اپنے بہنوئی کو مارنے کے لئے آگے بڑھے۔آپ کی بہن اپنے خاوند کی محبت کی وجہ سے درمیان میں آگئیں۔حضرت عمر ؓ چونکہ ہاتھ اُٹھا چکے تھے اور اُن کی بہن اچانک درمیان میں آگئیں وہ اپنا ہاتھ روک نہ سکے اور اُن کا ہاتھ زور سے اُن کی ناک پر لگااور اُس سے خون بہنے لگا۔حضرت عمرؓ جذباتی آدمی تھے یہ دیکھ کر کہ انہوں نے عورت پر ہاتھ اُٹھایا ہے جو عرب کے طریق کے خلاف تھا اور پھر بہن پر ہاتھ اٹھایا ہے۔حضرت عمرؓ نے بات ٹلانے کے لئے کہا اچھا مجھے بتاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے ؟بہن نے سمجھ لیا کہ عمرؓ کے اندر نرمی کے جذبات پیدا ہو گئے ہیںاُس نے کہا جاؤتمہارے جیسے انسان کے ہاتھ میں میں وہ پاک چیز دینے کے لئے تیار