تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 286

ٍ اس آیت کے ساتھ ایک تاریخی واقعہ بھی وابستہ ہے جس کا یہاں بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک کاتب وحی تھا جس کا نام عبداللہ بن ابی سرح تھا۔آپؐ پر جب کوئی وحی نازل ہوتی تو اُسے بلوا کر لکھوا دیتے۔ایک دن آپؐ یہی آیتیں اُسے لکھوا رہے تھے۔جب آپثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَپر پہنچے تو اُس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہفَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وحی ہے اس کو لکھ لو۔اُس بدبخت کو یہ خیال نہ آیا کہ پچھلی آیتوں کے نتیجہ میں یہ آیت طبعی طور پر آپ ہی بن جاتی ہے۔اُس نے سمجھا کہ جس طرح میرے منہ سے یہ آیت نکلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وحی قرار دے دیا ہے اسی طرح آپ نعوذباللہ خود سارا قرآن بنا رہے ہیں چنانچہ وہ مرتد ہوگیا۔اور مکہ چلا گیا۔فتح مکہ کے موقعہ پر جن لوگوں کو قتل کرنےکا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اُن میں ایک عبداللہ بن ابی سرح بھی تھا۔مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے پناہ دے دی اور وہ آپ کے گھر میں تین دن چُھپا رہا۔ایک دن جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لوگوں سے بیعت لے رہے تھے حضرت عثمانؓ عبداللہ بن ابی سرح کو بھی آپ کی خدمت میں لے گئے اور اُس کی بیعت قبول کرنے کی درخواست کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے توکچھ دیرتامل فرمایا مگر پھر آپ نے اُس کی بیعت لے لی۔اور اس طرح دوبارہ اُس نے اسلام قبول کر لیا۔( ابو داؤد کتاب الحدود باب الحکم فی من ارتد) اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ کے متعلق یہ امر بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے۔بلکہ اس جگہ خالق کے معنے اندازہ کرنے والے کے ہیں۔چنانچہ مفردات امام راغبؒ میں لکھا ہے۔مَعْنَاہُ اَحْسَنُ الْمُقَدِّرِیْنَ اَوْ یَکُوْنُ عَلٰی تَقْدِیْرِ مَاکَانُوْا یَعْتَقِدُوْنَ وَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّ غَیْرَاللہِ یُبْدِعُ فَکَاَ نَّہُ قِیْلَ فَاحْسِبْ اَنَّ ھٰھُنَا مُبْدِعِیْنَ وَمُوْجِدِیْنَ فَاللہُ اَحْسَنُھُمْ اِیْجَادًاعَلٰی مَا یَعْتَقِدُوْنَ یعنی اس جگہ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ کے معنے اَحْسَنُ الْمُقَدِّ رِیْنَ کے ہیں اور مراد یہ ہے کہ وہ تمام اندازہ کرنے والوں میں سے بہتر اندازہ کرنے والا ہے اور یا پھر اس جگہ دوسروں کے اعتقادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کہی گئی ہے کیونکہ بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے لوگ بھی ایجادیں کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیشک دنیا میں کئی موجد اور صناع پائے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی ایجاد اور صنعت کا ان کی ایجادوں اور صنعتوں سے مقابلہ تو کرو۔تمہیں ماننا پڑےگا کہ اُن کی ایجادات خدائی ایجادات کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے اللہ تعالیٰ سمیع اور بصیر ہے مگر پھر وہ انسان کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا ( الدہر :۳) یعنی ہم نے اسے سمیع اور بصیر بنا دیا۔اب اس کے یہ معنے نہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کی صفت سمیع اور بصیر میں شریک ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے جب اسے سننے اور دیکھنے کی قابلیت دی تو مجازی رنگ میں اُسے بھی سمیع اور بصیر کہہ دیا گیاپھر انسان کے لئے صرف سمیع اور بصیر کا لفظ آتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے لئے اَلسَّمِیْعُ اور اَلْبَصِیْرُ کا لفظ آتا ہے یعنی سننے اور دیکھنے کے جتنے کمالات ہیں وہ سب اُس میں پائے جاتے ہیں۔ورنہ انسان کی سماعت اور بصارت تو اتنی ناقص ہے کہ وہ دور کی بات سُن ہی نہیں سکتا اور نہ اپنی پیٹھ کے پیچھے پڑی ہوئی چیز کو دیکھ سکتا ہے۔اسی طرح بیشک دنیا میں اور بھی صناع اور موجد ہیں مگر اُن کی صنعتیں اور ایجادات بالکل بے حقیقت ہیں اور پھر جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں سے ہی ایجادات کا سلسلہ قائم رکھے ہوئے ہیں تو اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ بہر حال خدا تعالیٰ ہی ہوا۔کوئی انسان نہ ہو ا۔آخر میں اس امر کا بیان کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میںثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ فرما کراللہ تعالیٰ نے جس روحانی مقام کا ذکر فرمایا ہے یہ وہ مقام ہے جو محنت اور قربانی اور جدوجہد اور متواتر عمل کے ساتھ وابستہ ہے اور جس کے لئے ایک لمبے عرصہ تک انسان کو اپنے نفس کی جلاء میں مشغول رہنا پڑتا ہے۔لیکن بعض تغیرات ایسے بھی ہوتے ہیں جو انقلابی طورپر واقع ہوتے ہیں اور آناً فاناً انسان کو زمین سے اٹھا کر عرش پر پہنچا دیتے ہیں۔حضرت عمرؓ کے ایمان لانے کا واقعہ اس انقلاب کی ایک زندہ مثال ہے۔حضرت عمرؓ کو اسلام سے شدید دشمنی تھی لیکن اُن میں روحانی قابلیت بھی موجود تھی یعنی باوجود آپ میں شدید غصّہ ہونے کے۔باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کو تکا لیف پہنچانے کے اُن کے اندر جذبۂ رقت بھی موجود تھا۔چنانچہ جب حبشہ کی طرف پہلی ہجرت ہوئی تو مسلمانوں نے نماز فجر سے پہلے مکہ سے روانگی کی تیاری کی تاکہ مشرک انہیں روکیں نہیں اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچائیں۔مکہ میں یہ رواج تھا کہ رات کو بعض رؤساء شہر کا دورہ کیا کرتے تھے تاکہ چوری وغیرہ نہ ہو۔اسی دستور کے مطابق حضرت عمر ؓ بھی رات کو پھر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک جگہ گھر کا سب سامان بندھا پڑا ہے۔آپ آگے بڑھے۔ایک صحابیہ ؓ سامان کے پاس کھڑی تھیں۔اُس صحابیہؓ کے خاوند کے ساتھ شاید حضرت عمر ؓ کے تعلقات تھے۔اس لئے آپ نے اُس صحابیہ ؓ کو مخاطب کر کے کہا۔بی بی یہ کیا بات ہے۔مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم کسی لمبے سفر پر جارہی ہو۔اُس صحابیہؓ کا خاوند وہاں نہیں تھا۔اگر وہ وہاں ہوتا تو ہو سکتا تھا کہ مشرکینِ مکہ کی عداوتوں اور دشمنیوں کی وجہ سے حضرت عمرؓ کی یہ بات سن کر وہ کوئی بہانہ بنا دیتا۔لیکن عورت کو یہ حِس نہیں تھی۔اُس صحابیہؓ نے کہا عمرؓ! ہم تو مکہ چھوڑ رہے ہیں انہوں نے کہا۔تم مکہ چھوڑ رہی ہو۔صحابیہ ؓ نے کہا ہاں ہم مکہ چھوڑ رہے ہیں۔حضرت عمرؓ نے پوچھا تم کیوں مکہ چھوڑ رہے ہو۔صحابیہ ؓ نے جواب دیا۔عمرؓ ! ہم اس لئے مکہ چھوڑ رہے ہیں کہ تم اور تمہارے بھائی ہمارا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے۔اور ہمیں خدا ئے واحد کی عبادت کرنے میں یہاں آزادی میسر نہیں۔ا س لئے ہم وطن چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں جارہے ہیں۔اب باوجود اس کے کہ حضرت عمر ؓ اسلام کے شدید دشمن تھے۔باوجود اس کے کہ وہ خود مسلمانوں کو مارنے پر تیار رہتے تھے۔رات کے اندھیرے میں اُس صحابیہ ؓ سے یہ جواب سن کر کہ ہم وطن چھوڑ رہے ہیں اس لئے کہ تم اور تمہارےبھائی ہمارا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے اور ہمیں خدائے واحد کی عبادت آزادی سے نہیں کرنے دیتے۔حضرت عمرؓ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔اور اس صحابیہ ؓ کا نام لے کر کہا۔اچھا جائو خدا تمہارا حافظ ہو۔معلوم ہوتا ہے حضرت عمر ؓ پر رقت کا ایسا جذبہ آیا کہ آپ نے خیال کیا کہ اگر میں نے دوسری طرف منہ نہ کیا تو مجھے رونا آجائے گا۔اتنے میں اُس صحابیہ ؓ کے خاوند بھی آگئے۔وہ سمجھتے تھے کہ عمرؓ اسلام کے شدید دشمن ہیں۔انہوں نے جب آپ کو وہاں کھڑا دیکھا تو خیال کیا یہ ہمارے سفر میں کوئی روک پیدا نہ کر دیں۔انہوں نے اپنی بیوی سے دریافت کیا کہ یہ یہاں کیسے آگیا؟ اُس نے بتا یا کہ وہ اس اِس طرح آیا تھااور اس نے سوال کیا تھا کہ تم کہاں جارہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی شرارت نہ کر دے۔اُس صحابیہ ؓ نے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے ( عرب عورتیں عام طورپر اپنے خاوندوں کو چچا کا بیٹا کہا کرتی تھیں )تم تو یہ کہتے ہو کہ وہ کہیں کوئی شرارت نہ کر دےمگر مجھے تو ایسا معلوم ہو تا ہے کہ اُس نے کسی دن مسلمان ہو جانا ہے کیونکہ جب میں نے کہا عمرؓ! ہم اس لئے مکہ چھوڑ رہے ہیں کہ تم اور تمہارے بھائی ہمیں خدائے واحد کی عبادت آزادی سے نہیں کرنے دیتے تو اُس نے منہ پھیر لیا اور کہا۔اچھا جائو خداتمہارا حافظ ہو۔اُس کی آواز میں ارتعاش تھا اور میں سمجھتی ہوں کہ اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ضرور کسی دن مسلمان ہو جائےگا(السیرۃ الحلبیۃ باب الھجرة الاولیٰ الی ارض الحبشة)۔