تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 270

ملک کی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ ضائع ہوتا ہے۔یورپ کی آزاد حکومتیں جو اپنی اقتصادی ترقی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتی رہتی ہیں۔اُن کی تو یہ حالت ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سینما اور تھیئٹر بناتی ہیں تاکہ وہ لوگ جو سینمائوں کی کمی کی وجہ سے اس تعیش سے محروم ہیں وہ بھی اس میں حصہ لے سکیں اور ان کی دولت اور ان کا وقت بھی اس پر صرف ہو لیکن اسلام قطعی طور پر اُن تمام چیزوں کو جو بنی نوع انسان کے لئے مفید نہیں بند کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم ان کی اجازت نہیں دے سکتے۔اگر اسلام کے ان احکام پر پوری طرح عمل کیا جائے تو امراء کی ظاہری حالت بھی ایک حد تک مساوات کی طرف لوٹ آئے کیونکہ ناجائز کمائی کا ایک بڑا محرک ناجائز اور بے فائدہ اخراجات ہی ہوتے ہیں۔اس طرح ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ میں اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ حقیقی مومن صرف لغو کاموں سے ہی نہیں بچتے بلکہ لغو خیالات سے بھی بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو لغو خیالات کی عادت ہوتی ہے اُنہی کے دلوں میں نماز پڑھتے وقت قسم قسم کے خیالات آتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے اُن کی توجہ میں انتشار پیدا ہو جاتا ہے۔اگر وہ لغو خیالات اپنے دل و دماغ میں پیدا ہی نہ کریںاور اگر پیدا ہوں تو اُن کو روکنے کی کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس میں کامیاب نہ ہوں۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ کئی لوگ محض شیخ چلی جیسے خیالات کے چکر میں پھنسے رہتے ہیں حالانکہ ان کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ایسے خیالات جو محض ظنّی اور قیاسی ہوں اُن میں مشغول ہونے کے لئے اپنے نفس کو ہر گز اجازت نہیں دینی چاہیے اس سے ایک اور نقص بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص بیکار خیالات میں اپنے دماغ کو لگا دیتا ہے تو پھر وہ معقول باتوں کی طرف توجہ کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا۔پس لغو خیالات اور لغو افکار سے اپنے دل و دماغ کو صاف کرکے انہیں اعلیٰ اور مفید خیالات کی طرف متوجہ رکھنا چاہیے تاکہ قوتِ فکر ترقی کرے اور دماغ جواللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے وہ ماؤف نہ ہو۔پھر بتایا کہ مومن اس سے بھی ترقی کرکے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیںکہ اپنے اموال غرباء کی ترقی کے لئے ہمیشہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔درحقیقت اسلام اس نظریہ کا حامل ہے کہ دنیا میں جس قدر چیزیں پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے مشترکہ فائدہ کے لئے پیدا کی ہیں۔کسی ایک فرد کے لئے مخصوص نہیں کی گئیں اور چونکہ ہر قسم کی دولت جو دنیا میں حاصل کی جاتی ہے دوسرے لوگوں کی مدد سے حاصل کی جاتی ہے اور مزدور کی مزدوری ادا کرنے کے بعد بھی دولت مند کے مال میں اُن کا حق باقی رہ جاتا ہے اس لئے اسلام نے زکوٰۃ کا حکم دیا ہے تاکہ انسانی اموال دوسروں کے حقوق کی ملونی سے پاک ہو جائیں۔مثلاً ایک کان کا مالک اگر ان تمام مزدوروں کو جو کان میں کام کرتے ہیں اُن کی پوری مزدوری بھی ادا کر دے تب بھی وہ جو کچھ ادا کرے گا وہ اُن کی