تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 268
کر دیتا ہے۔اسی طرح سارا دن یہی شغل جاری رہتا ہے کہ دوست آتے ہیں اور گپیں ہانکتے ہیں اور اس کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔اس پر وہ بھی اُن کی خوب خاطر تواضع کرتا ہے۔اگر تھوڑی توفیق ہوئی تو پان الائچی سے تواضع کر دیتا ہے اور اگر زیادہ توفیق ہوئی تو صبح شام ان کو کھانا اپنے دستر خوان پر کھلاتا ہے۔مگر اس لئے نہیں کہ وہ غریب ہیں۔اس لئے نہیں کہ وہ بھوکے ہیں۔اس لئے نہیں کہ وہ ہمدردی کے قابل ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ اس کے پاس آکر بیٹھ جاتے ہیں اور مجلس میں خوشی کے ساتھ دن گذر جاتا ہے۔اسلام اس قسم کے کاموں کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔وہ فرماتا ہے مسلمان ہمیشہ لغو کاموں سے بچتے اور احتراز کرتے ہیں۔وہ کوئی ایسا کام نہیں کرتے اور کوئی ایسا کام اُن کو نہیں کرنا چاہیے جن کا کوئی عقلی فائدہ نہ ہو اور جس سے زندگی بے کار ہو جاتی ہو۔وہ شخص جو اپنے ماں باپ کی کمائی کھاتا ہے اور خود کوئی کام نہیں کرتا۔آخر اُسے سوچنا چاہیے کہ اس کی زندگی کا اُسے کیا فائدہ ہو سکتا ہے یا اُس کی قوم کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔یہ چیز تو ایسی ہے جس کا اُس کی ذات کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اُس کی قوم کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا اور دنیا کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔یہ زندگی کو محض بے کاری اور عیاشی میں ضائع کرنا ہے۔اور اسلام اس قسم کی بیکار زندگی کی اجازت نہیں دیتا۔اگر ایک شخص کو اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد دس کروڑ روپیہ بھی جائیداد میں ملتا ہے تو قرآن کریم کا حکم یہی ہے کہ وہ اتنی بڑی جائیداد کا مالک ہونے کے باوجود اپنے وقت کو ضائع نہ کرے بلکہ اسے قوم اور مذہب کے فائدہ کے لئے خرچ کرے۔اگر اُسے اس قسم کی خدمات کی ضرورت نہیں جن کے نتیجہ میں اُسے روٹی میّسر آئے تو وہ ایسی خدمات سرانجام دے سکتا ہے جو آنریری رنگ رکھتی ہوں۔اس طرح وہ بغیر معاوضہ لئے اپنے ملک یا اپنی قوم یا اپنے مذہب کی خدمت کرکے اپنے وقت کو بھی ضائع ہونے سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور اپنے اوقات کا صحیح استعمال کرکے اپنے آپ کو نافع الناس وجود بھی بنا سکتا ہے۔اس ضمن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ مرد زیور نہ پہنیں۔وہ ریشم استعمال نہ کریں (بخاری کتاب اللباس باب خواتیم الذّھب)۔اسی طرح سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔عورتوں کے لئے زیور حرام نہیں۔مگر اُن کے لئے بھی عام حالات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیورات کو ناپسند فرمایا ہے۔(سنن النسائی کتاب الزینۃ باب الکراھیۃ للنساء فی اظہار الحلّی و الذھب ) گو اس وجہ سے کہ وہ مقامِ زینت ہیں زیورات کا استعمال اُن کے لئے جائز ہے مگر اسلام اس با ت کی اجازت نہیں دیتا کہ زیورات پر اس قدر خرچ کیا جائے کہ ملک کی اقتصادی حالت کو نقصان پہنچ جائے یا انہیں اس قدر زیورات بنواکر دئیے جائیں کہ اُن میں تفاخر کی روح پیدا ہو جائے یا اس کے نتیجہ میں لالچ اور حرص کا مادہ اُن میں