تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 267

جب دشمن کو بھی گرفتار کرلے۔اسی طرح اسلام صرف یہ تعلیم نہیں دیتا کہ تم نجات حاصل کرو بلکہ وہ اس سے بھی بلند تر مقصد مومنوں کے سامنے رکھتا ہے اور کہتا ہے تم فلاح حاصل کرنے کی کوشش کرو۔کیونکہ جب انسان دشمن پر کامیابی حاصل کرلے گا تو یہ لازمی امر ہے کہ وہ اُس کے حملہ سے بھی بچ جائےگا یا وہ شخص جسے بھوک نہیں بیشک وہ بھوک کی تکلیف سے بچا ہوا ہوگا مگر وہ جس نے جسم کو طاقت پہنچانے والا کھانا کھایا ہو ا ہو وہ بھوک سے بھی بچا ہوا ہوگا اور اُس کا جسم بھی تنومند ہوگا۔پس فلاح ایک ایسا مقام ہے جس میں نجات بھی شامل ہے اور فلاح یہ ہے کہ انسان اس مقصد کو حاصل کرلے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ انسان اس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ صفات الٰہیہ کا مظہر بن جائے اور خدا تعالیٰ سے ملنے کی جو تڑپ انسانی فطرت میں رکھی گئی ہے اس کے مطابق وہ اپنے محبوبِ حقیقی کا قرب حاصل کرلے۔یہی وہ مقصد ہے جسےاللہ تعالیٰ نے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ( الذاریات :۵۷) میں بیان فرمایا ہے۔پس فلاح یہ ہے کہ انسانی پیدائش کا مقصد حاصل ہوجائےاوراللہ تعالیٰ کی رضا انسان حاصل کرلے۔یہ مقام انسان کو کیسے حاصل ہو سکتا ہے اور اس کے کیا کیا ذرائع ہیں۔ان امور کا تفصیلی ذکر اس جگہ کیا گیا ہے۔چنانچہ اس سورۃ میںاللہ تعالیٰ رُوحانی اور جسمانی پیدائشوں کو بالمقابل بیان کرکے پہلے رُوحانی پیدائش کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ مومن کامیاب ہوگئے جو اوّل اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں اورپھر اس سے ترقی کرکے وہ اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں کہ ہر قسم کی فضول اور بے فائدہ باتوں سے پرہیز کرنے لگ جاتے ہیں۔یعنی وہ اُن تمام کاموں سے اجتناب اختیار کرتے ہیں جن کا کوئی عقلی فائدہ نظر نہ آتا ہو۔مثال کے طور پر شطرنج ہے تاش ہے یا اور اس قسم کی کئی کھیلیں ہیں جن سے وقت ضائع ہو تا ہے۔اسلام ہرمومن کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ وہ اس قسم کے لغوکاموں سے بچیں اور شطرنج اور تاش یا اس قسم کی دوسری کھیلوں میں حصّہ لے کر اپنے وقت کو ضائع نہ کرے۔ہاں وہ ورزش سے نہیں روکتاکیونکہ یہ انسان کے اندر جرأت اور بہادری اور طاقت پیدا کرتی ہے۔یا مثلاً مجالس میں بیٹھ کر گپیں ہانکنا ہے یہ بھی لغو ہے۔یامثلاً بیکار زندگی بسر کرنا ہے یہ بھی لغو ہے۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ سارا دن بیکار بیٹھے دوستوں کی مجلس میں گپیں ہانکتے رہتے ہیں۔اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ اپنے اوقات کا کس بے دردی کے ساتھ خون کررہے ہیں۔ایک شخص کا باپ مر جاتا ہے اور وہ اپنے پیچھے بہت بڑی جائیداد چھوڑ جاتا ہے۔اب لڑکے کا کام صرف یہی رہ جاتا ہے کہ وہ سارا دن اپنے دوستوں کی مجلس میں بیٹھا رہتا ہے۔ایک آتا اور کہتا ہے۔نواب صاحب آپ ایسے ہیں یا لالہ صاحب آپ ایسے ہیں یا پنڈت صاحب آپ ایسے ہیں یا شاہ صاحب آپ ایسے ہیں اور پھر دوسراتعریف شروع کردیتا ہے۔وہ خاموش ہو تا ہے تو تیسرا اُس کی تعریف شروع