تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 266

منسوب کرتے ہوئے اور ذرا نہیں شرماتے اور درحقیقت وہ اس طرح حضرت عمر ؓ اور حضرت ابو بکر ؓ کو گالیاں نہیں دیتے بلکہ خود حضرت علی ؓ کو گالیاں دیتے ہیں۔بہرحال جو شخص ابوبکر ؓ اور عمرؓ کی غلامی کا جؤا اپنی گردن پر رکھ لیتا ہے اور اُن کی بیعت میں شامل ہوجاتا ہے اور اُن کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔اُس کی نسبت یہ کہنا کہ وہ دل میں خلافت کو اپنا حق سمجھتا تھا اور حق بھی لیاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ منشائے شریعت کے مطابق۔اس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے بنتے ہیں کہ حضرت علیؓ نعوذ باللہ ظاہرکچھ کرتے تھے اور دل میں کچھ رکھتے تھے اور یہ بات حضرت علیؓ کی نسبت امکانی طور پر بھی ذہن میں لانا گناہ ہے۔کجا یہ کہ اس کے وقوع پر یقین کیا جائے۔پس اوّل تو حضرت علیؓ کا طریق عمل خود اس خیال کو باطل کر رہاہے۔دوسرےقَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ کی آیت بھی شیعوںکے اس خیال کی تردید کرتی ہے کیونکہ یہ آیت بتاتی ہے کہ جن مومنوں میں وہ صفات ہو ںگی جن کااللہ تعالیٰ نے اگلی آیات میں ذکر فرمایا ہے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔کیونکہاَفْلَحَ کے معنے اپنے مقصد اور مدعا کو حاصل کرلینے اور اس میں کامیاب ہو جانے کے ہوتے ہیں۔پس اگر حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کو شیعوں کے نظریہ کے مطابق خلافت کی خواہش تھی اور وہ خلیفہ بن بھی گئے تو صاف طور پر معلوم ہو گیا کہ وہ کامل مومن تھے جن کواللہ تعالیٰ نے مذہبی اور سیاسی نظام کی باگ ڈور دے دی اور انہیں دُنیا کا راہنما بنا دیااور یا پھر یہ ماننا پڑےگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے باوجود حضرت علیؓ یہی چاہتے تھے کہ ابوبکر ؓ خلیفہ ہو جائیں۔میں نہ بنوں سو خدا نے اُن کی اس خواہش کو پورا کر دیا اور حضرت ابوبکرؓ کامیاب ہو گئے۔لیکن بعد میں حضرت علیؓ کے اتباع نے ہی اُن کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔پس قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ کی آیت نے شیعوں کے ان دونوں خیالات کا ردّ کر دیا۔اس خیال کا بھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کی اکثریت نعوذ باللہ منافق تھی اور صرف اڑہائی آدمی پکے مومن تھے اور اس خیال کا بھی کہ خلافت کے اصل مستحق حضرت علیؓ تھے ،حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ نے ان کا حق غصب کر لیا تھا۔اس جگہ یہ بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ میں مومنوں کے متعلق فلاح کے لفظ کا استعمال بتا رہا ہے کہ مومن کا اصل مقام نجات حاصل کرنا نہیں بلکہ فلاح حاصل کرنا ہے نجات جس کے اصل معنے تکلیفوں اور دُکھوں سے بچ جانے کے ہیں بیشک ایک خوبی ہے مگر اس سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انسان اپنے مقصد کو حاصل کرلے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی جرنیل کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہا جائے کہ وہ دشمن سے بچ کر نکل آیا۔بیشک بعض مواقع پر اُس کا دشمن سے بچ کرنکل آنا بھی قابلِ تعریف فعل ہوگا مگر حقیقی تعریف کا وہ تبھی مستحق ہوگا