تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 23

ہیں اَحْیَاہُ اللہ تعالیٰ نے مردہ کوزندہ کیا (اقرب) پس یُنْشِرُوْنَ کے معنے ہوںگے وہ زندہ کرتے ہیں مخلوق پیداکرتے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ تم دیکھو آسمان اور زمین میںجو کچھ ہے وہ خدا کاہے اور جب یہ سب کچھ خدا کا ہے تو کیاتم سمجھتے ہو کہ وہ انسانوںکو تباہ ہونے دےگا اور ان کے لئے ہدایت کا سامان نہیں کرے گا دنیامیںکوئی شخص اپنی چیز کو آپ تباہ نہیںکیا کرتاپھر تم کس طرح سمجھتے ہو کہ زمین و آسمان میںجوکچھ ہے سب خدا کاہو۔اور پھر بھی اسے اپنے بندوںکی اصلاح کا خیال نہ ہو۔وہ ہمیشہ ان کی اصلاح کے لئے اپنے مامور بھیجتارہتاہے اور جس شخص کے عمل بتاتے ہیں کہ وہ خدارسیدہ ہے وہ کبھی تکبر کرکے خدا تعالیٰ کی عبادت سے ہٹ نہیں جاتا۔اور نہ خدا کی عبادت سے تھکتاہے بلکہ ایسے لوگ رات اور دن بغیر وقفہ کے تسبیح کرتے رہتے ہیں یہ لوگ تو خود بے وقوف ہیںاور ہماری طرف بے وقوفی منسوب کرتے ہیںکہ آپ اپنے ہاتھوں سے بت بناتے ہیںاور ان کی پوجا کرنے لگ جاتے ہیں اور ہمارے متعلق بھی خیال کرتے ہیں کہ ہم خود ایک مخلوق پید اکرکے اس کو اپنابیٹا یا ہمسر بنا لیتے ہیں۔لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ اگر ان دونوں( یعنی زمین و آسمان) میںاللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہوجاتے۔پس اللہ( تعالیٰ) جو رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ۰۰۲۳ عرش کابھی رب ہے تمام نقصوںسے پاک ہے اور ان (باتوں) سے بھی جو وہ کہتے ہیں۔حلّ لُغَات۔یَصِفُوْنَ۔یَصِفُوْنَ وَصَفَ سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے اور وَصَفَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں نَعَتَہٗ بِمَا فِیْہِکسی چیز کی اندرونی کیفیت کو بیان کرنا۔(اقرب) پس یَصِفُوْنَ کے معنے ہوںگے وہ بیان کرتے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے۔کیا یہ سمجھتے نہیں کہ زمین وآسمان میںاللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تو زمین و آسمان تباہ ہوجاتے۔یعنی اگر کئی معبود ہوتے تو دنیامیں کئی قانون نیچر ہوتے۔اور دنیاتباہ ہوجاتی مگر قانون نیچر دنیامیںایک ہی نظر آتاہے مجھے یاد ہے جب میںچھوٹا تھا۔غالباً میری عمر اس وقت کوئی اکیس سال کی تھی کہ ایک سندھ کے مولوی صاحب غالباً مولانا عبید اللہ صاحب سندھی جو اکثر قادیان آتے رہتے تھے۔استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدین