تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 264
حضرت عیسٰی علیہما السلام سے بھی آپ کو ادنیٰ قرار دیتے ہیں۔کیونکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حواریوں کی خدا تعالیٰ قرآن کریم میں تعریف کرتا ہے ( الصف:۱۰)اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے کہ اُن کی قوم کے گو سارے نوجوان ایمان نہیں لائے تھے۔مگر کچھ لوگ ایمان لے آئے تھے (یونس :۸۴) اور کچھ لوگوں سے مراد اڑھائی مومن نہیں ہو سکتے۔دوسرے قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ فرما کر اللہ تعالیٰ نے شیعیت کے اس حملہ کا بھی رد کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ اُن کا یہ نظریہ محض غلط اور بے بنیاد ہے۔مومنون کا لفظ جو اس جگہ استعمال کیا گیا ہے جمع سالم ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ ایسے مومن بہر حال تین یا تین سے زیادہ ہونے چاہئیں۔اور اگر ان سات اقسام کو جو اگلی آیات میں بیان ہوئی ہیں مدنظر رکھا جائے توایسے مومن کم سے کم اکیس ضرور ہونے چاہئیں حالانکہ شیعہ صرف اڑھائی آدمیوں کو مومن قرار دیتے ہیں دوسرے اس آیت سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ جو سچے مومن ہیں وہ کامیاب ہوںگے۔اور واقعات سے ظاہر ہے کہ کامیاب ابوبکرؓ ہوئے۔عمرؓہوئے۔عثمانؓ ہوئے۔حضرت علی ؓ تو ساری عمر ان لوگوں کے وظیفہ خوار رہےاور جب اُن کو حکومت ملی تو خود اپنے آدمیوں نے اُن کی مخالفت کی اور اپنے آدمیوں کے ہاتھ سے ہی مارے گئے۔پس معلوم ہوا کہ اہل السنت و الجماعت کے افراد جو تمام صحابہؓ کو مومن قرار دیتے ہیں وہی حق پر ہیں نہ کہ وہ جن کی نگاہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اڑھائی مومن نصیب ہوئے۔صحابہؓ کا مقام تو ایسا بلند تھا کہ خود قرآن کریم اُن کی تعریف کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنی نیکی اور تقویٰ اور اخلاص میں وہ مقام حاصل کر لیا تھا کہ خدا اُن سے راضی ہوگیاتھا۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔(التوبۃ:۱۰۰)یعنی جولوگ مہاجرین اور انصار میں سے نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں۔اور وہ لوگ بھی جو کامل اطاعت دکھاتے ہوئے اُن کے پیچھے چلے۔اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔اُس نے اُن کے لئے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ اُن میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔لیکن شیعہ عقیدہ کے مطابق تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نعوذباللہ ایسا بھولا بھالا اور سادہ ہے کہ وہ منافقوں کے دھوکے میں بھی آجاتا ہےاور اُن سے بھی راضی ہو جاتا ہے۔اب بتائو جن مہاجرین اور انصار سے خدا راضی ہو گیا اور جن کو اُس نے اپنی جنت میں داخل کر لیا اور انہیں ہمیشہ کے لئے اپنی خوشنودی کا سرٹیفیکیٹ عطاکر دیا اُن کو منافق قرار دینا کیا خود اپنے نفاق اور کمیٔ ایمان کی علامت نہیں؟ پھر صحابہؓ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ (الاحزاب :۲۴) یعنی