تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 257

اے رسولو! تم حلال میں سے طیب چیزیں کھائو اور مناسب حال عمل کرو اور میرا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ خداتمہارے اعمال سے واقف ہے۔دیکھو یہ سارے نبی ایک ہی شکل کے ہیں۔سب کے حالات ملتے جلتے ہیں اور ان کے دعوے بھی ملتے جلتے ہیں پھر تم کیوں خدا کے بارہ میں اختلاف کرتے ہو۔( آیت ۵۲، ۵۳) لیکن انسانوں کی یہ حالت ہے کہ جب کبھی بھی اُن کے پاس نبی آئے انہوں نے بعد میں اُن کی تعلیم کو کوئی اور شکل دے دی اور نئے نئے مذہب بن گئے۔حالانکہ ابتداء ً سب تعلیمیں ایک سی تھیں۔اب تو ان کو اُن کی غفلت میں چھوڑ دے۔کیونکہ تجھے اُن پر جبر کا کوئی اختیار نہیں۔اُن کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو جو مال اور اولاد ملی ہے وہ اُن کی عزت اور ان کے درجے کی وجہ سے ملی ہے حالانکہ وہ جانتے نہیں کہ یہی چیزیں ان کو تباہی کی طرف لے جانے والی ہیں۔( آیت ۵۴ تا ۵۷) مومن تو اپنے رب کے خوف سے ہمیشہ لرزاں اور اُس کے نشانوں پر ایمان لانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔اور خدا کا کسی کو شریک نہیں بناتے اور ہر قسم کی نیکی کرکے بھی اپنے آپ کو قصور وار ہی سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ قرار دیتے ہیں۔اور وہ نیکی میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں اور دوڑ کر نیکیوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم اتنی ہی کسی انسان سے امید کرتے ہیں جتنی کہ اُس میں طاقت ہوتی ہے۔اور جب ہم فیصلہ کریں گے تو ایسے امتیازی طریقوں کے ساتھ فیصلہ کریں گے کہ جتنا جتنا کوئی شخص حقدار ہوگا اُتنا اُس کو حق مل جائےگا اور کوئی وجہ جو کسی کے غیر مجرم بنانے کی ہو نظر انداز نہیں کی جائےگی۔( آیت ۵۸ تا ۶۳) لیکن ان لوگوں کے دل تو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ کبھی بھی کوشش نہیں کرتے کہ نیکی کریں یا نیکی میںآگے بڑھیں۔یہاں تک کہ جب اُن کے دولتمندوں پر عذاب کی گرفت آجاتی ہے تو پھر وہ گریہ وزاری کرنے لگ جاتے ہیں۔اُس دن ہم اُن سے کہتے ہیں آج گریہ وزاری کا کیا فائدہ ہے۔آج ہم تمہاری مدد کس طرح کر سکتے ہیں۔تمہارے سامنے ہماری تعلیم سنائی جاتی تھی لیکن تم ایڑیوں کے بل پھر جاتے تھے اور اس پر کبھی غور نہیں کرتے تھے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے۔اور راتوں کو بیٹھ بیٹھ کر ہماری تعلیم کو بُرا بھلا کہا کرتے تھے۔( آیت ۶۴ تا ۶۸) کیا انہوں نے کبھی ہماری باتوں پر غور نہ کیا یا انہوں نے یہ نہ سوچا جو کچھ ان سے کہا گیا ہے وہی ان کے باپ دادوں سے بھی کہا گیا تھا۔کیا انہوں نے یہ نہ سوچا کہ جو شخص ان سے مخاطب ہو رہا ہے اس کی تعلیم میں ان کی ترقی کا راز مضمر ہے۔مگر باوجود اس کے وہ انکار کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں اسے جنون ہے لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ اس مجنون کی باتیں وہ ہیں جو نظر آتی ہیں کہ آخر ہو کر رہیں گی اور اصل بات تو یہ ہے کہ ان میں سے اکثر وہ ہیں جو اس نتیجہ سے