تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 242

سوچا کہ اگر ایسی بغاوت کے وقت اسامہ ؓ کا لشکر بھی رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے بھیج دیا گیا تو پیچھے صرف بوڑھے مرد بچے اور عورتیں ر ہ جائیں گی اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں ہوگا۔چنانچہ انہوں نے تجویز کی کہ اکابر صحابہ ؓ کا ایک وفد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جائے اور ان سے درخواست کرے کہ وہ اس لشکر کو بغاوت کے فرو ہونے تک روک لیں۔چنانچہ حضرت عمررضی اللہ عنہ اور اکابر صحابہ ؓ مل کرایک وفد کی صورت میں حضرت ابوبکر ؓ کے پاس گئے اور اُن سے عرض کیا کہ کچھ عرصہ کے لئے اس لشکر کو روک لیا جائے جب بغاوت فرو ہو جائے تو پھر بے شک اسے بھیج دیا جائے۔جب حضرت ابوبکر ؓ کے پاس یہ وفد پہنچا تو آپ نے نہایت غصہ سے اس وفد کو یہ جواب دیا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابو قحافہ کا بیٹا سب سے پہلا کام یہ کرے کہ جس لشکر کو روانہ کرنےکا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اُسے روک لے ( ابوقحافہ حضرت ابوبکر ؓ کے باپ کا نام تھا اور وہ مکہ کے بہت ہی معمولی آدمیوں میں سے سمجھے جاتے تھے )حضر ت ابو بکر ؓ کی عادت تھی کہ جب وہ اپنی تحقیر کرنا چاہتے تو اپنے باپ کا نام لیتے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ میری کیا حیثیت ہے جو میں ایسا کرو ں۔اس موقعہ پر بھی آپ نے اپنے باپ کا نام لے کر کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ابو قحافہ کا بیٹا سب سے پہلا کام یہ کرے کہ جس لشکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا اُسے روک لے۔پھر آپ نے فرمایا اگر سارا عرب باغی ہو گیا ہے تو بے شک ہو جائے خدا کی قسم اگر دشمن کی فوج مدینہ میں گھس آئے اور ہمارے سامنے مسلمان عورتوں کی لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں۔تب بھی میں اس لشکر کو ضرور روانہ کروںگا جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا۔اگر تم دشمن کی فوجوں سے ڈرتے ہو تو بے شک میرا ساتھ چھوڑ دو میں اکیلا تمام دشمنوں کا مقابلہ کروںگا (البدایۃ والنھایۃفصل فی تنفیذ جیش اسامۃ بن زیدؓ)۔یہ جرأت اور دلیری حضرت ابوبکر ؓ میں کہا ں سے پیدا ہوئی ؟ یہ وہی ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا والے حکم کی تعمیل کا نتیجہ تھا۔جس طر ح بجلی کے ساتھ معمولی تار بھی مل جاتی ہے تو اس تارمیں عظیم الشان طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔بجلی سے علیحدہ کرلو تو تار کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔مگر اُسی تار میں جب بجلی کی رَو آئی ہوئی ہو۔اور تار کے اوپر سے ربڑ اُترا ہوا ہو تو اگر ایک قوی سے قوی پہلوان بھی اُسے چھوئے گا تو مُردہ چوہے کی طرح گِر جائےگا اور اس کی طاقت اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکے گی۔غرض دنیوی عزتوں کے حصول کے لئے لوگ بڑی بڑی قربانیاں کر تے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس موقعہ پر اس امر کا ذکر کرتا اور فرماتا ہے۔اے مومنو! جب تم ہمارے پاس آئے ہو تو تمہیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ بغیرارْكَعُوْا وَ