تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 241

نقائص ہیں خدا تعالیٰ اُن کا خود ذمہ دار ہے۔کیونکہ جب کامیابی کے حصول کی ناجائز دنیوی تدبیروں سے اُس نے منع کر دیا ہے تو اب وہ ہمارا خود ذمہ دار ہے۔اور وہ آپ ہمارے نقصوں اور ہماری خامیوں کو پورا کرے گا۔پھر فرماتا ہے۔وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ یہاں وَاسْجُدُوْا میں جو سجدہ کا لفظ آیا ہے۔اس سے مراد بھی نماز والا سجدہ نہیں اس لئے کہ آگے وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ کے الفاظ آتے ہیں جس میں سجدہ بھی شامل ہے پس اس جگہ سجدہ سے مراد بھی وہ سجدہ نہیں جو ہم زمین پر کرتے ہیں بلکہ وَاسْجُدُوْا کے معنے ہیں۔اے مومنو ! تم کامل فرمانبرداری سے کام لو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پوری اتباع کرو اور جس طرح وہ حکم دیتا ہے اُسی طرح کرو۔چاہے وہ حکم تمہاری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔بسا اوقات انسان ایک چیز کے متعلق جانتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سےپیش کی گئی ہے مگر اپنی نادانی سے سمجھتا ہے کہ اس میں میری تباہی اور بر بادی ہے لیکن جب وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اس چیز کو اختیار کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی خود حفاظت کرتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اُس پر انعامات کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔حدیثوں میں اس کی ایک نہایت ہی لطیف مثال بیان کی گئی ہے کہ کس طرح و ہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے لئے تکلیفیں اُٹھاتے اور بظاہر اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھوں میں گراتے چلے جاتے ہیں اور انجام کار اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جاتے ہیںاور تباہی کے سامانوں میں اُن کے لئے برکت کے سامان پیدا کر دئیے جاتے ہیں۔حدیثوں میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے ایک بندے سے کہے گا کہ دوزخ میں کود جا۔بندہ بے دھڑک دوزخ میں کو د جائےگا اور کہےگا جب مجھے میرے رب کا یہی حکم ہے کہ میں دوزخ میں کود جائوں تو مجھے دوزخ ہی منظور ہے۔مگر جب وہ اُس میں کو دے گا تو دوزخ اُس کے لئے نہایت آرام دہ جنت بن جائےگا اور وہ آگ سے کھیلنے لگ جائےگا۔اللہ تعالیٰ اس پر کہے گا دیکھو میرا بندہ آگ سے کیسا خوش ہو رہا ہے۔یہ مثال درحقیقت اسی بات کی ہے کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے قربانی کر کے بظاہر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُنہی ہلاکت کے سامانوں میں اُن کے لئے ترقی کے سامان پید ا کر دیتا ہے۔بظاہر دنیا سمجھتی ہے کہ وہ آگ میں کودے ہیں مگر جب وہ اس آگ میں کود جاتے ہیں تو وہی آگ اُن کے لئے جنت بن جاتی ہے۔دیکھ لو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اُس وقت سارا عرب مرتد ہوگیا اور حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ جیسے بہادر بھی اس فتنہ کو دیکھ کر گھبرا گئے۔وفات کے قریب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر رومی علاقہ پر حملہ کر نے کے لئے تیار کیا تھا اور اسامہ ؓ کو اُس کاافسر مقرر کیا تھا۔مگر ابھی وہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔آپ کی وفات پر جب قریباً سارا عرب مرتد ہوگیا تو صحابہ ؓ گھبراگئے اور انہوں نے