تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 237

کی طرف سے رسالت کے مقام پر کھڑے کئے جاتے رہیں گے۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ جو کچھ اُن کے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ وہ پیچھے کر آئے ہیں اُسے بھی جانتا ہے اور سب تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۰۰۷۷ معاملے اُسی کی طرف لوٹا ئے جاتے ہیں۔تفسیر۔یعنی اللہ تعالیٰ انسان کے اعمال کو بھی جانتا ہے اور جو وہ نہیں کر سکا اُس کو بھی جانتا ہے اور سب امور اُسی کی طرف لوٹا ئے جاتے ہیں۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ضرورت کے وقت ہدایت نہ دے کیونکہ اس صورت میں جب بندے اس کے پاس پیش ہوںگے اور اُن سے ان کے کئے ہوئے کاموں اور نہ کئے ہوئے کاموں کے متعلق سوال کیا جائےگا تو وہ یہ کہنے کے حقدار ہوںگے کہ حضور نے موقع پر ہماری طرف ہدایت تو بھیجی نہیں ہمارا کیا قصور ؟ یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کا اِعطاء صرف ماضی پر نہیں بلکہ آئندہ کی قابلیتوں پر بھی ہوتا ہے۔اسی لئے اس کا ذکر رسولوں کے انتخاب کے ساتھ ملاکر کیا گیا ہے۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ اے مومنو! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور افْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚؑ۰۰۷۸ نیک کام کرو تاکہ تم اپنے مقصود کو پا لو۔حلّ لُغَات۔اِرْکَعُوْا۔اِرْکَعُوْاامر مخاطب کا صیغہ ہے اور رَکَعَ الْمُصَلِّیْ رَکْعًا وَرُکُوْعًا کے معنے ہیں طَأ طَأَ رَأسَہٗ۔نمازی نے اپنا سر نیچے کیا اور جب رَکَعَ اِلَی اللّٰہِ کہیں تو معنے ہوںگے اِطْمَاَنَّ اِلَیْہِ۔اُس نے اللہ تعالیٰ سے دل لگا کر تسلی پائی۔نیز رَکَعَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں اِنْحَطَّتْ حَالُہُ وَافْتَقَرَ۔اُس کی مالی حالت کمزور ہو گئی اور وہ