تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 236
کے ہاتھ میں سب کچھ ہے وہ ہر چیز کو نہیں دیکھ سکتا اور ہر شخص کی آواز کو نہیں سُن سکتا ؟ اور جب وہ ہر چیز کو دیکھتا اور ہر شخص کی آواز کو سُنتاہے تو اُس کے لئے کسی اور مدد گار خدا کی کیا ضرورت رہی ؟ وہ اکیلا ہی ساری دنیا پر حاوی ہے اور اکیلا ہی سب پر حکومت کر رہا ہے۔غرضمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بنیادی غلطی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ انسانی طاقتوں پر قیاس کر کے خدائی طاقتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اس طرح شرک جیسے گندے عقیدے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اللہ (تعالیٰ) فرشتوں میں سے اپنے رسول منتخب کرتا ہے اور (اسی طرح) انسانوں میں سے (بھی) اللہ( تعالیٰ) بہت سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌۚ۰۰۷۶ (دعائیں) سُننے والا (اورحالات کو )بہت دیکھنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔یَصْطَفِیْ۔یَصْطَفِی اِصْطَفٰی سے مضارع کا صیغہ ہے اور اِصْطَفَاہُ کے معنے ہیں اِخْتَارَہٗ اُس کو چُن لیا۔( اقرب) پس یَصْطَفِیْ کے معنے ہیں چنتا ہے اور چنتا رہے گا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی ملائکہ کو اپنے پاک بندوں پر نازل کرتا رہے گا اور اسی طرح انسانوں میں سے بھی پاک لوگوں کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا رہے گا کیونکہ وہ دعائیں سُنتا ہے اور انسانوں کے حالات کو دیکھتا ہے۔جب کبھی کسی انسان کی روح آسمانی پانی کے لئے پکارےگی۔اللہ تعالیٰ اُس پر آسمان سے پانی اتارے گا اور جب کبھی وہ دیکھے گا کہ اس کے بندے ہدایت سے دُور جارہے ہیں وہ اُن کی ہدایت کے لئے اپنے پاک بندوں کو مامور کرتا رہے گا۔اس آیت سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کا ذکر ہے۔آپ سے پہلے لوگوں کا ذکر نہیں۔اور چونکہ اس میں صاف طو ر پر بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ میں سے اور انسانوں میں سے اپنے رسول چُنتا ہے۔اور چنتا رہےگا جیسا کہ فعل مضارع سے ظاہر ہے جو اس جگہ استعمال کیا گیا ہے۔اس لئے یہ آیت واضح طور پر امتِ محمدیہ