تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 225

کی اجازت دیتا ہے۔چنانچہ اس کے بعد وہ ہمارے پا س آیا اور اُ س نے پوچھا کہ اس بارہ میں اسلام کا کیا حکم ہے ؟ ہمارے مبلّغین نے بتایا کہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے مگر اُس نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ تم انصاف سے کام لو اور ہر بیوی کا حق ادا کرو۔وہ کہنے لگا یہ بات درست ہے اور میری عقل اسے تسلیم کرتی ہے۔مَیں سمجھتا ہوں کہ یورپ نے اس تعلیم کو چھوڑ کر بہت کچھ کھویا ہے اور ہم نے اپنے اخلاق بگاڑ لئے ہیں۔اس لئے اب مَیں آپ کے پاس ہی آیا کروںگا۔چنانچہ وہ خو د بھی مجھے ملا اور اپنے بیوی بچوں کو بھی ہمارے گھر لایا۔اسی طرح ایک جرمن عورت جو مسلمان ہو چکی تھی میرے پا س آئی۔اُس نے باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ جنرل نجیب نے مجھے سعودی عرب کے بادشاہ کے پاس بھیجا تھا اور اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ میرے بیٹے کے ساتھ شادی کر لو۔میں نے کہا۔شکر کرو تم بچ گئیں کیونکہ اُن کی تو بہت سی بیویاں ہوتی ہیں ،وہ کہنے لگی ساری بیویاں نہیں ہوتیں۔اصلی بیوی ایک ہی ہوتی ہے۔باقی سب داشتہ ہوتی ہیں۔پھر کہنے لگی جب اسلام نے مسلمانوں کو ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کی اجازت دی ہے اور مَیں بھی مسلمان ہو گئی ہوں تو مجھے ایک سے زیادہ بیویوں پرکیا اعتراض ہو سکتا ہے۔پھر وہ کہنے لگی میری کئی دفعہ پادریوں سے گفتگو ہوئی ہے ایک دفعہ ایک پادری نے تعدد ازواج کے خلاف تقریر کی تو میں نے کہا۔تم بڑے بیوقوف ہو۔عورت تو مَیں ہوں سوکن مجھ پر آنی ہے یا تم پر آنی ہے۔مجھے تو سوکن آنے پر کوئی اعتراض نہیں اور تم خواہ مخواہ چڑتے ہو۔میں تو اسلام کے اس حکم کو غنیمت سمجھتی ہوں کیونکہ اسلام نے گو مرد کو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دی ہے مگر ساتھ ہی اُس نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں ایک جیسا کھانا کھلائو۔ایک جیسے کپڑے دو اور ایک جیسا مکان دو۔جب یہ چیز موجود ہے تو عورتوں کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ہم کورٹ شپ کے بعد شادی کرتے ہیں مگر دو سال تک کورٹ شپ کرنے کے باوجود پھر بھی لڑائی ہو جاتی ہے۔اگر تّعدد ِ ازواج کی صورت میں میرا خاوند مجھ سے لڑےگا تو اتنا تو ہوگا کہ ایک مکا ن میرا ہوگا اور اُس کے ساتھ ہی دوسرا مکان میری سوکن کا ہوگا اور اس کے ساتھ تیسرا مکان میری تیسری سوکن کا ہوگا۔میں شام کے وقت خاوند کا بازو پکڑوںگی اور اُسے دوسرے گھر میں دھکیل دوںگی اور کہوںگی کہ سار ا دن میں نے تیرا منحوس مُنہ دیکھا ہے اب دوسری بیوی تیرا مُنہ دیکھے۔اگر یہ ہوتا کہ کورٹ شپ کی وجہ سے ہماری کبھی لڑائی ہی نہ ہوتی تو پھر تو کوئی بات بھی تھی لیکن جب ہماری بھی لڑائیاں ہو تی ہیں تو پھر اسلام کی اس اجازت سے اتنا تو فائد ہ ہو سکتا ہے کہ جب خاوند کی عورت سے لڑائی ہو تو وہ اُس کا بازو پکڑ کر اُسے دوسری بیوی کے گھر میں دھکیل دے اور خود اُس کا غصّے والا چہر ہ سارا دن نہ دیکھتی رہے۔میں نے یہی واقعہ اُس میوزیشن کو سنا یا تو وہ کہنے لگا آپ وہاں کی بات کرتے ہیں میں لنڈن میں دس ہزار