تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 223

ہے۔نَاسِکُوْہٗ میں ن گِرا ہوا ہے اور ہ ضمیر غائب ہے۔نَسَکَ الرَّجُلُ نَسْکًا کے معنے ہیں تَزَ ھَّدَ وَتَعَبَّدَ وَتَقَشَّفَ اس نے خدا کی عبادت کی اور دنیا سے بے رغبت ہوگیا اور زینت کے سامانوں کو اُس نے چھوڑ دیا۔اور جب نَسَکَ لِلّٰہِ کا فقرہ بولیں تو معنے ہوں گے۔تَطَوَّعَ بِقُرْبَۃٍ وَذَبَحَ لِوَجْھِہٖ خدا کا قرب چاہنے کے لئے خوش دلی سے عبادت کی اور اُس کی ذات کے لئے قربانی کی ( اقرب) پس نَاسِکٌ کے معنے ہوںگے عباد ت کرنےوالا۔خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرنےوالا۔مَنْسَکٌ۔مَنْسَکٌ کے معنے ہیں شِرْعَۃُ النَّسْکِ عبادت کا طریقہ۔قربانی کا طریقہ (اقرب )۔یُنَازِعُ۔یُنَازِعُ نَازَ عَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور نَازَعَہٗ مُنَازَعَۃً کے معنے ہیں خَاصَمَہٗ۔اُس سے جھگڑا کیا ( اقرب) پس فَلَا یُنَا زِعُنَّکَ کے معنے ہوںگے وہ نہ جھگڑا کریں۔تفسیر۔فرماتا ہے۔ہر مذہب والوں کے لئے کوئی نہ کوئی دین چاہیے۔پس تیرے دین کے متعلق تیرے دشمنوں کے پاس جھگڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔اُن کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ تیرا دین اپنے رب کی طرف بلاتا ہے یا نہیں اور لوگوں کو صراط مستقیم دکھاتا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے اور صاف طور پر کہتا ہے کہفَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا( الحج :۳۵) اے لوگو! تمہارا معبود ایک ہی ہے اُسی کی فرمانبرداری کرو اور وہ انہیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی ہدایت کرتا ہے۔جیسا کہ ہر نماز میں بلکہ نماز کی ہر رکعت میں یہ دُعا سکھائی گئی ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ(الفاتحۃ:۶) اے خدا ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔تو پھر ان کی دشمنی محض ان کی کینہ توزی پر دلالت کرتی ہے ورنہ جو شخص خدائے واحد کی طرف بلائے اور لوگوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت کرے اُس سے جھگڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔اُس سے جھگڑا اُسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب خدا تعالیٰ کے وجود کاہی انکار کیا جائے یا یہ ثابت کیا جائے کہ صراط مستقیم کے بغیر بھی انسان اپنے مقصود کو حاصل کر سکتا ہے۔لیکن جب خدا تعالیٰ کی ہستی تسلیم کئے بغیر کوئی دین دین ہی نہیں کہلا سکتا اور صراط مستقیم پر چلنے کے بغیر کسی کامیابی کا حصول ہی ممکن نہیں تو دشمنوں کی لڑائی یہ تو ثابت کر سکتی ہے کہ اُن کے دل بغض و حسد کی آگ سے جل رہے ہیں مگر یہ ثابت نہیں کر سکتی کہ وہ کسی معقولیت کی بنا پر لڑائی کر رہے ہیں۔ا س آیت میںاِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِيْمٍ فرما کر اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرما دی ہے کہ دنیا خواہ کس قدر مخالفت کرے آخر وہی تعلیم دنیا میں غالب آئے گی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش فرما رہے ہیں۔اور تمام مذاہب کے جھنڈے ایک دن اسلامی جھنڈے کے مقابل میں سرنگوں ہو جائیں گے۔چنانچہ دیکھ لو جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم