تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 222
ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْسے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ ایک ہی وقت میں مُمیت بھی ہوتا ہے اور مُحْي بھی۔وہ مارتا بھی ہے اور زندہ بھی کرتا ہے۔اور ہر موت اپنے ساتھ ایک نئی حیات لاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو کھانے پینے کی چیزیں مرتی ہیں تو وہ مرکر کھاد جیسی قیمتی چیز پیدا کر دیتی ہیں۔تم روٹی سے ایک روٹی کا کام لے سکتے ہو۔مگر روٹی کے فضلہ سے دس روٹیاں پیدا کی جاتی ہیں۔پس کوئی چیز دنیا میں ایسی نہیں جس پر موت آئے مگر وہ حیات پیدا نہ کرے۔نابینا انسان دیکھتا ہے تو کہتا ہے خدا مار رہا ہے۔مگر آنکھوں والا جب دیکھتا ہے تو کہتا ہے خدا زندہ کر رہا ہے اور درحقیقت یہ آنکھ خدا تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اُن کی جماعتوں کو ہی ملتی ہے۔پس خدا تعالیٰ کی طرف سے صرف موت کبھی نہیں آتی بلکہ اس کی طرف سے آنےوالی ہر موت زندگی کا پیغام اپنے ساتھ لاتی ہے۔جنگ بدر میں بیشک مسلمانوں کے بھی کچھ آدمی مارے گئے۔مگر کیا بدر کی جنگ ہی نہیں تھی جس نے عرب کو زندہ کر دیا اسی طرح جنگِ اُحد میں کچھ مسلمان مارے گئے اور کچھ جنگ احزاب میں کام آئے مگر انہی جنگوں کے نتیجہ میں جب اہل عرب میں اصلاح پیدا ہو گئی۔تو اُن میں سے ہر ایک شخص کو زندگی کی رُوح نظر آنے لگی۔پھر فتح مکّہ کے وقت بھی بعض موتیں ہوئیں لیکن اگر مکّہ فتح نہ ہوتا تو عرب کے لاکھوں لوگوں کی زندگی کس طرح ممکن تھی۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان موتوں میں ہی عرب کی زندگی مخفی تھی۔پس موت بسا اوقات حیات کا موجب ہو جاتی ہے۔بشرطیکہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کریں اور اپنی عملی زندگی میں تغّیر پیدا کریں۔لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ ہم نے ہر ایک اُمت کے لئے ایک عبادت کا طریق مقرر کیا ہے جس کے مطابق وہ چلتی ہے۔پس اس طریق فِي الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى (یعنی اسلام) کے متعلق وہ تجھ سے بحث نہ کریں( کیونکہ یہ خدا کا مقرر کردہ ہے) اور تو (انہیں )اپنے رب کی طرف مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۶۸ بُلا کیونکہ تُو سیدھے راستہ پر ہے۔حلّ لُغَات۔نَاسِکُوْہٗ۔نَاسِکوہٗ نَسَکَ سے اسم فاعل نَاسِکٌ ہوتا ہے اور نَاسِکُوْنَ نَاسِکٌ سے جمع