تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 221

حالت کو نہ بدل دے۔جب وہ خود اپنے اعمال سے اُس مقام کو کھو بیٹھتی ہے جو خدا تعالیٰ نے اُسے عطا کیا تھا تو خدا تعالیٰ کا سلوک بھی اس سے بدل جاتا ہے اور وہ قوم ہلاکت کے گڑھے میں گِر جاتی ہے گویا خدا تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ لوگ اُس کے انعامات کے وارث ہوں مگر جب وہ خود اپنے ہاتھوں زہر کھانا شروع کر دیں تو خدائی قانون کے ماتحت وہ زہر اُن کا خاتمہ کر دیتی ہے۔یہی وہ قوانین ہیں جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ اُس نے اپنی رحمت کے ہاتھ سے تم سے عذاب کو روک رکھا ہے اور اُسے کئی قسم کی شرائط کے ساتھ مشروط کر دیا ہے اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے اس قانون سے فائدہ اٹھائو۔اور خدائی احکام کو قبول کر کے اس کے شرعی عذاب سے اور قوانینِ نیچر کی اتباع کر کے اس کے طبعی عذاب سے بچو۔اور خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ تمام نعماء سے صحیح رنگ میں فائدہ اُٹھائو۔وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَحْيَاكُمْ١ٞ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ١ؕ اِنَّ اور وہی ہے جس نے تم کو زندہ کیا۔پھر تم کو مارے گا۔پھر تم کو زندہ کرے گا الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ۰۰۶۷ انسان یقیناً بڑا نا شکر ا ہے۔حلّ لُغَات۔کَفُوْرٌ۔کَفُوْرٌکَفَرَ سے نکلا ہے اور کَفَرَ نِعْمَۃَ اللّٰہِ کے معنے ہیں جَحَدَ ھَا وَسَتَرَھَا وَھُوَ ضِدُّ الشُّکْرِ۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا اور ان کو چُھپا یا۔اور کفر کا لفظ ان معنوں میں شکر کے مخالف معنے ادا کرنے کے لئے استعمال کیا جا تا ہے۔کلیات ابوالبقاء میں ہے۔اَلْکُفْرُ تَغْطِیَۃُ نِعَمِ الْمُنْعِمِ بِالْجُحُوْدِ (اقرب)۔احسان کرنے والے کی نعمتوں کا انکار کرکے ان نعمتوں پر پردہ ڈالنا اور لوگوں سے چھپا نا کفر کہلاتا ہے۔پس کَفُوْرٌ کے معنے ہوںگے ناشکری کرنےوالا خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کر نے والا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔خدا تعالیٰ انسان کو ہمیشہ ترقیات دیتا رہتا ہے اور ترقی کے بعد نافرمانی کی صورت میں تباہی بھی لاتا ہے تاکہ اس کا دل صاف ہو اور جب دل صاف ہو جاتا ہے تو پھر زندہ کر دیتا ہے مگر انسان خدا تعالیٰ کے سب احسان دیکھ کر بھی ناشکری میں لگا رہتا ہے۔