تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 220

قوم پر اتمام حجت ہو جاتی ہے اور وہ انکار اور تکذیب میں بڑھتی چلی جاتی ہے تو آخر اس قوم کی تباہی کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔اور وہ عذاب کا شکار ہو جاتی ہے۔یہ شرعی عذاب ہے جو مامورین کی تکذیب کے نتیجہ میں قوموں پر آتا ہے اس عذاب کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس کے متعلق پہلے سے پیشگوئیوں میں خبر دے دی جاتی ہے یا غیر معمولی طور پر دنیا میں ایسی بلائوں اور آفات کا ظہور ہونے لگتا ہے جن کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں ملتی۔مثلاً یکد فعہ زلزلوں پر زلزلے آنے شروع ہو جاتے ہیں یا بیماریاں۔قحط۔لڑائیاں اور دوسری قسم کے مصائب ایک ہی وقت میں اس طرح جمع ہو جاتے ہیں کہ لوگوں میں ایک شور مچ جاتا ہے اور ہر شخص تسلیم کرتا ہے کہ یہ غیر معمولی حوادث ہیں۔ان شرعی عذابوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ یہ عذاب وقفہ وقفہ کے بعد آتے ہیں تاکہ جو لوگ عذاب کے ان متواتر جھٹکوں سے بیدار ہو سکیں وہ بیدار ہو جائیں اور کلی تباہی سے محفوظ رہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے اس قانون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً مِّنْ بَعْدِ ضَرَّآئَ مَسَّتْھُمْ اِذَا لَھُمْ مَّکْرٌ فِیْ اٰیَاتِنَاقُلِ اللّٰہُ اَسْرَعُ مَکْرًا۔اِنَّ رُسُلَنَا یَکْتُبُوْنَ مَاتَمْکُرُوْنَ ( یونس :۲۲) یعنی جب ہم لوگوں کو کسی دُکھ اور مصیبت کے بعد اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ جھٹ ہمارے نشانوں کے متعلق کوئی نہ کوئی مخالفانہ تدبیر شروع کردیتے ہیں تو انہیں کہہ دے کہ اللہ کی تدبیر بہت ہی جلد کار گر ہو اکرتی ہے اور تم جو تدبیریں کرتے ہو ہمارے فرستادے انہیں لکھتے رہتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ہمارا عذاب کبھی یکدم نازل نہیں ہوتا بلکہ پہلے عذاب کا ایک جھٹکا آتا ہے جسے کچھ عرصہ کے بعد دور کر دیا جاتا ہے تاکہ لوگ توبہ سے کام لیں اور اپنے مظالم اور گناہوں سے باز آجائیں لیکن بد سرشت لوگ پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے وہ عذاب کے وقت تو کسی قدر ڈر جاتے ہیں مگر جب عذاب میں کمی واقع ہوتی ہے تو پھر ہمارے کلام اور احکام کے خلاف اپنی تدابیر شروع کر دیتے ہیں۔فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کی تدبیر تو بہت جلد نافذ ہو جاتی ہے مگر وہ خود ہی لوگوں پر احسان کرتے ہوئے اپنی تدبیر کو روکے رکھتا ہے۔کیونکہ نہ تو اُسے لوگوں کے کام بھول سکتے ہیں کہ اُسے فوراً بدلہ لینے کی ضرورت ہو اور نہ سزا دینے میں اُسے کوئی مشکل پیش آسکتی ہے کہ وہ سمجھے کہ اگر اس وقت میں نے سزا نہ دی تو بعد میں مشکل پیش آجائے گی وہ ہر وقت سزاد ے سکتا ہےاور کوئی بات بھی اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں اس لئے مخالفین کو تکبر اور اعراض سے کام نہیں لینا چاہیے۔جب اُن کی کلی تباہی کا فیصلہ کر دیا گیا تو پھر ان کی کوئی تدبیر اُن کو بچا نہیں سکے گی۔یہ تو شرعی عذابوں کا ذکر تھا طبعی عذابوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَابِاَنْفُسِھِمْ(الرعد :۱۲)یعنی اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خوداپنی اندرونی