تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 210
کے ساتھ کیا تھا(السیرة الحلبیة ذکر ،مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکة شرفھا اللہ تعالیٰ)۔اور اس قدر انقلاب اُن میں پیدا ہو ا کہ وہی لوگ جو کل تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے تھے آپ کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے لگ گئے اور عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ سے حضرت ابن عباس ؓ مجاہد اور قتادہ کے نزدیک بدر کا عذاب مراد ہے جس نے کفار کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں اور اُن کے رعب اور دبدبہ کو خاک میں ملا دیا۔(القرطبی زیر آیت ھٰذا) اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ١ؕ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ اُس دن سب بادشاہت اللہ ہی کی ہوگی وہ اُن کے درمیان فیصلہ کرے گا۔پس مومن جو ایمان کے عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۰۰۵۷وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ مناسب حال عمل بھی کرتے ہوںگے وہ نعمت والی جنتوں میں رہیں گے۔اور کافر اور ہماری آیتوں کے كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌؒ۰۰۵۸ منکر تو وہ ہیں جن کے لئے رسوائی کا عذاب (مقدر) ہے۔حلّ لُغَات۔جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۔اَلنَّعِیْمُ کے معنے ہیں الْخَفْضُ وَالدَّعَۃُ۔آرام آسائش۔اَلْمَالُ۔مال ( اقرب ) اسی طرح النَّعِیْمُ کے معنے ہیں اَلنِّعْمَۃُ الْکَثِیْرَۃُ بہت سی نعمت ( مفردات ) پس جَنّٰتِ النَّعِیْمِ کے معنے ہوںگے (ا) ایسی جنات جن میں آرام و آسائش حاصل ہوگا۔(۲) مال و دولت والی جنات (۳) بہت سی نعمت والی جنات۔تفسیر۔فرماتا ہے جب یہ ساعۃ آگئی تو اُس دن خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائےگی اور شرک اور کفر دنیا سے مٹ جائےگا۔چنانچہ دیکھ لو فتح مکہ کے بعد خدا کا وہ گھر جسے حضرت ابراہیم ؑ اور آپ کے بیٹے حضرت اسمعٰیل ؑ نے خدا ئے واحد کی پرستش کے لئے بنایا تھا اور جسے بعد میں اُن کی گمراہ اولاد نے تین سو ساٹھ بتوں سے بھر دیا تھا کس طرح بتوں سے خالی کیا گیا۔اور کس طرح ایک ایک بُت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بیت اللہ سے باہر پھینک دیا گیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک بُت پر سونٹی مارتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ جَآئَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا (بنی اسرائیل:۸۲)۔یعنی حق آگیا ہے اور باطل بھاگ گیا ہے۔اور باطل تو ہے ہی