تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 209
لیکن سالہا سال کی ہنسی کے بعد جسے بائیبل نے شاعرانہ رنگ میں سینکڑوں سال کا زمانہ کہا ہے یکدم طوفا ن آیا اور وہ لوگ غرق ہو گئے جو آپ پر ہنسی کیا کرتے تھے اور آپ کی کشتی پہاڑ کی چوٹی پر جا ٹھہری۔قرآن کریم اور بائیبل دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر سے بھاگے تو آخر وقت تک ان کی قوم کے لوگ بھی یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ہماری نجات کا وقت آگیا ہے اور فرعون نے بھی کہا کہ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں۔فوراً فوجیں جمع کرو یہ ہم سے بھاگ کر کہاں جا سکتے ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگوں کو فرعون کا لشکر نظر آیا تو انہوں نے کہا اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ(الشعراء:۶۲) ہم ضرور پکڑے جائیں گے لیکن وہی لوگ جو آدھ گھنٹہ پہلے یہ سمجھتے تھے کہ ہم اب فرعون کے ہاتھ سے بچ نہیں سکتے آدھ گھنٹہ بعد انہوں نے دیکھا کہ بادشاہ کے وہ وزراء اور فوجیں جن پر اس کی شوکت کا دارو مدار تھا غوطے کھاتے ہوئے سمندر کی تہ میں جا رہے ہیں۔(خروج باب ۱۴ آیت ۱۰ تا ۳۱)پھر اس عذاب کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ فرعون اُن بادشاہوں میں سے تھا جو اپنے مُنہ پر ہمیشہ نقاب اوڑھے رہتے تھے اور انہوں نے لوگوں میں یہ مشہور کر رکھا تھا کہ جو شخص بادشاہ کی شکل دیکھ لے وہ کوڑھی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اُس کی ہتک کرتا ہے۔اس لئے وہ ہمیشہ اپنے منہ پر نقاب رکھتے تھے یہ بتانے کے لئے کہ ہم ایسے عالیشان انسان ہیں کہ ہماری شکل دیکھنا بھی ہر کس و ناکس کا کام نہیں اور اگر کسی شخص کے لئے بادشاہ اپنا نقاب اٹھا دیتا تھا تو وہ بڑا مقرب سمجھا جاتا تھااور وہ اپنی قوم کا سردار بن جاتا تھا مگر آج اُس کی لاش قاہرہ کے عجائب گھر میں پڑی ہوئی ہے جسے میں نے ۲۴ء میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔مگر دیکھنے والا کن جذبات کے ماتحت اُسے دیکھتا ہے۔اچھے جذبات کے ماتحت نہیں بلکہ ہر دیکھنے والا اُس پر لعنت ڈالتا ہے اور کہتا ہے۔خبیث توتھا موسیٰ ؑ کو دکھ دینے والا۔غرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب عذاب آتا ہے تو وہ بعض دفعہ ایسا اچانک آتا ہے کہ انسان دیکھتے ہی دیکھتے اُس کی لپٹ میں بھسم ہو کر رہ جاتا ہے۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت میں اسی طرح شکوک و شبہات میں ہی مبتلا رہیں گے یہاں تک کہ ایک دن اچانک ان کی تباہی کی گھڑی آجائےگی اور وہ اُس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔اور یا پھر اُن پر ایسا عذاب نازل ہو گا جو اُن کی شوکت کا کوئی نشان تک باقی نہیں رکھے گا۔چنانچہ فتح مکہ بھی ایک ساعت تھی جو اچانک کفار مکہ پر آئی۔اور جس نے اُن کے تمام بل اس طرح نکال کر رکھ دئیے کہ وہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو ابتدائے اسلام سے دکھ دیتے چلے آرہے تھے اس قدر عاجزاور درماندہ ہو گئے کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عاجز انہ التجا کی کہ آپ ہم پر رحم کریں اور ہم سے وہی سلوک کریں جو یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں