تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 205
پکڑ لیتا ہے۔اسی طرح شیطان کو بھی تقدس کی خوشبو سے دشمنی ہے اور جس میں سے اُسے یہ خوشبو آئے اُس پر وہ دیوانہ وار حملہ کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ جس سے تقدس کی خوشبو آتی ہے اُسے چیر ڈالے۔جب آدم ؑ نے خدا تعالیٰ سے تقدس کی خوشبو پائی تو وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پیچھے دوڑا۔پھر حضرت نوح علیہ السلام آئے اور انہوں نے خوشبو پائی تو وہ اُن کے پیچھے دوڑا۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے اور ان کے ذریعہ سے یہ خوشبو پھیلی تو وہ اُن کے پیچھے دوڑ پڑا۔پھر حضرت رام۔حضرت کرشن۔حضرت زرتشت۔حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت محمد مصطفیٰ ؐ آئے تو اُن کے پیچھے دوڑ پڑا۔اگر ان سب میں ایک ہی قسم کی خوشبو نہ ہوتی تو ان پر شیطان کا حملہ بھی ایک رنگ میں نہ ہوتا۔چونکہ ان کی خوشبو ایک ہی طرح کی تھی اور وہ توحید کی خوشبو تھی اس لئے شیطان نے اُن کے زمانوں میں حملہ بھی ایک ہی رنگ میں کیا۔مگر فرماتا ہےفَيَنْسَخُ اللّٰهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔اللہ تعالیٰ شیطان کی تمام روکوں کو مٹا دیتا ہے اور اس تعلیم کو قائم کر دیتا ہے جو اُس کی طرف سے آتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا اور حکت والا ہے۔لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو( مشکلات) شیطان ڈالتا ہے وہ اُن لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہیں جن کے دلوں مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَفِيْ شِقَاقٍۭ میں بیماری ہو تی ہے اور جن کے دل سخت ہوتے ہیں اور ظالم لوگ( ہر خدائی بات کی) شدید مخالفت کرنے پر بَعِيْدٍۙ۰۰۵۴وَّ لِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ تُلے رہتے ہیں۔اور( یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے) تاکہ وہ لوگ جو علم والے ہوتے ہیں جان لیں کہ وہ( یعنی قرآن) رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ تیرے رب کی طرف سے مجسم سچائی ہے اور اس پر ایمان لے آئیں۔اور ان کے دل اُس کے آگے جھک