تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 203

یہ ہے کہ مہاجرین حبشہ اس کہانی کو سن کر اس وقت مکہ میں واپس نہیں آسکتے تھے جس وقت وہ آئے جیسا کہ میں پہلے ثابت کر چکا ہو ں۔اب میں سورۂ حج کی زیرِ تفسیر آیت کو لیتا ہوں جس کی بناء پر اس واقعہ کو جائز قرار دیا گیا ہے اور بتا تا ہوں کہ اس آیت کا وہ مفہوم نہیں جو مفسرین نے لیا ہے۔اس آیت کے مفسرین تو یہ معنے کرتے ہیں کہ تجھ سے پہلے جتنے نبی اور رسول گذرے ہیں جب کبھی وہ اپنی وحی کی تلاوت کیا کرتے تھے شیطان اُن کی وحی میں کچھ ملا دیا کرتا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ملائے ہوئے کو منسوخ کر دیتا تھا اور اپنی آیات کو مضبوط کر دیتا تھا۔(القرطبی زیر آیت ھذا) لیکن یہ معنے بالکل غلط ہیں۔اوّل تو اس لئے کہ تَمنّٰی کے معنے صرف پڑھنے کے نہیں ہوتے بلکہ ارادہ کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور اُمْنِیَۃٌ کے معنے صرف تلاوت کے ہی نہیں ہوتے بلکہ مطلوب و مقصود کے بھی ہوتے ہیں ( اقرب) ان دونوں لفظوں کے مذکورہ بالا معنے مدنظر رکھتے ہوئے آیت کے معنے یوں ہوںگے کہ ’’ ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر جب بھی وہ کوئی ارادہ کرتا تھا۔شیطان اُس کے ارادہ میں کچھ ڈال دیتا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے کو راستے سے ہٹا دیتا ہے اور اپنے نشانوں کو قائم کر دیتا ہے۔‘‘ ان معنوں کو دیکھو تو پتہ لگ جائےگا کہ مفسرین کے معنے یہاں چسپاں ہی نہیں ہو سکتے۔ان معنوں کی رُو سے اس آیت کے معنے صرف یہ بنتے ہیں کہ کوئی رسول اور نبی نہیں گذرا جس کے ارادوں یعنی شرک کے تباہ کرنے کے ارادوں کو ناکام رکھنے کے لئے شیطان کوئی روکیں نہ ڈالتا ہو۔لیکن نبیوں کے مطلوب و مقصود کو ناکام کرنے کے لئے شیطان خواہ کتنی کوششیں کر ے اور اُن کے راستہ میں کتنی مشکلات بھی ڈالےا للہ تعالیٰ شیطان کی ڈالی ہوئی مشکلات کو اُن کے راستہ سے ہٹا دیتا ہے او ر نبیوں کو کامیاب بنانے کے لئے جن نشانوں کی خبر دیتا ہے اُن کے پورا ہونےکے سامان پیدا کر دیتا ہے۔سو اس طرح نبی جیت جاتے ہیں اور شیطان ہار جاتا ہے۔اب جو تاریخی واقعات ہیں اُن سے بھی لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ آیا جو مفسرین نے معنے کئے ہیں۔وہ واقعات کے مطابق ہیں یا جو ہم نے معنے کئے ہیں وہ واقعات کے مطابق ہیں۔تفسیری معنوں کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہارنا چاہیے تھا اور شرک کو غالب آجانا چاہیے تھا لیکن ہوا یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں رکھے ہوئےبتوں کو اپنے ہاتھ سے توڑا اور شرک ہمیشہ کے لئے مٹ گیا۔پس آج تک کوئی بھی نبی اور رسول ایسا نہیں آیا جس کے ہر مقصد اور ہر مدعا اور ہر خواہش اور ہر تڑپ کے آگے شیطان نے روکیں نہ ڈالی ہوں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر نبی کامیاب ہو گیا۔تو پھر میرا ٹھکانا کہیں نہیں۔جس طرح مرتا ہوا آدمی پورا زور لگاتا ہے کہ وہ کسی طرح موت کے پنجے سے نکل جائے اسی طرح شیطان اور اس کی