تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 195
كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَ هِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ دی حالانکہ وہ ظلم کر رہی تھیں۔پھر میں نے اُن کو پکڑ لیا اور میری ہی طرف سب نے لوٹ کر آنا ہے۔تو اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُؒ۰۰۴۹قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا کہہ دے اے لوگو! میں تمہاری طرف صرف ایک ہوشیار کرنےوالے کی حیثیت سے آیا ہوں۔پس جو ایمان لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌۚ۰۰۵۰فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لائیں گے اور (اس کے) مناسب حال عمل کریں گے۔انہیں (خدا تعالیٰ کی) بخشش اور معزز رزق حاصل ہوگا۔اور لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ۰۰۵۱وَ الَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْۤ اٰيٰتِنَا وہ لوگ جنہوں نے ہمارے نشانوں کے متعلق ( اس غرض سے) جدوجہد کی کہ (وہ ہم کو) عاجز کر دیں وہ مُعٰجِزِيْنَ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ۰۰۵۲ لوگ جہنم میں پڑنے والے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَمْلَیْتُ۔اَمْلَیْتُ اَمْلیٰ سے واحد متکلم کا صیغہ ہے۔اور اَمْلٰی لَہُ کے معنے ہوتے ہیں اَمْھَلَہٗ۔اُس کو مہلت دی ( اقرب) پس اَمْلَیْتُ کے معنے ہوںگے میں نے اُن کو مہلت دی۔تفسیر۔فرماتا ہے۔حق کے مخالف ہمیشہ عذاب کے متعلق جلد بازی کیا کرتے ہیں مگر اُن کے اس فریب میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ خدا کا ایک دن تو ہزار سال کے برابر ہے۔وہ آہستہ آہستہ عذاب لاتا ہے۔چنانچہ پہلے لوگوں کو بھی دیکھو کہ انہوں نے صداقتوں کا انکار کیا مگر فوراً تباہ نہ ہوئے پھر ایک دن خدا کا عذاب آگیا اور وہ تباہ ہو گئے۔اس آیت میںاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ فرماکر جہاں اللہ تعالیٰ نے عذاب کی شدت کا ذکر کیا ہے اور بتا یا ہے کہ تم تو عذاب مانگ رہے ہو مگر جب وہ آیا تو تمہاری یہ حالت ہوگی کہ تمہیں عذاب کی ایک گھڑی ہزار برس کے برابر معلوم ہو گی۔اور تمہیں اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آئے گی۔وہاں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اس ہزار سالہ دَور کا بھی ذکر فرمایا ہے جس میں کفر کو پھر اپنا سر اٹھانے کا ایک موقع ملنا تھا اور فرمایا