تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 192
تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ۰۰۴۷ اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہوتے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلصَّومَعَۃُ۔الصَّوَامِعُ اَلصَّوْمَعَۃُ کی جمع ہے۔مفردات میں ہے اَلصَّوْمَعَۃُ کُلُّ بِنَاءٍ مُتَصَمِّعُ الرَّأسِ اَیْ مُتَلَاصِقُہُ۔ہر ایک عمارت جس کے اوپر گنبد بنا ہو ا ہو۔اقرب میں ہے کہ اَلصَّوْمَعَۃُ کا لفظ راہب کے منارہ پر بولا جاتا ہے۔بِیَعٌ۔بِیَعٌ بِیْعَۃٌ کی جمع ہے اور اَلْبِیْعَۃُ کے معنے ہیں مَعْبَدُ النَّصَارٰی۔عیسائیوں کی عبادت گاہ۔( اقرب) صَلَوَاتٌ۔صَلَوٰتٌ یہودیوں کے کنیسہ کو کہتے ہیں۔( اقرب) مَکَّنَّا۔مَکَّنَّا مَکَّنَ سے جمع متکلم کا صیغہ ہے اور مَکَّنَہُ مِنَ الشَّیْءِ کے معنے ہیں۔جَعَلَ لَہٗ عَلَیْہِ سُلْطٰنًا وَقُدْرَۃً۔اُسے کسی چیز پر غلبہ اور قدرت دےدی۔پس اِنْ مَّکَّنَّا کے معنے ہوںگے اگر ہم غلبہ دے دیں۔(اقرب) نَکِیْرٌنَکِیْرٌ کے معنے ہیں۔اَلْاِنْکَارُ۔انکار اور نَکِیْرِیْ کے معنے ہیں۔میرا انکار۔( اقرب) مُعَطَّلَۃٍ۔عَطَّلَ الْبِٔرَ کے معنے ہیں تَرَکَ وِرْدَھَا کنوئیں پر جانا چھوڑ دیا۔وَکُلُّ مَاتُرِکَ ضَائِعًا فَقَدْ عُطِّلَ۔اور ہر وہ چیزجس کی نگرانی چھوڑ دی جائے اور وہ ضائع ہو جائے اُس کے لئے عُطِّلَ کا لفظ بولتے ہیں ( اقرب) پس بِئرٍ مُّعَطَّلَۃٍ کے معنے ہوںگے ایسے کنوئیں جن پر کوئی نہ جاتا ہو۔مَشِیْدٌ مَشِیْدٌ کے معنے ہیں ھُوَ مَا طُلِیَ بِالشِّیْدِ وَقِیْلَ ھُوَ الْمَرْ فُوْعُ الْمُطَوَّلُ۔وہ عمارت جو چونہ گچ ہو یا بلند و بالا ہو ( اقرب) تفسیر۔ان آیات میں وہ اصول بیان کئے گئے ہیں جن کے ماتحت مسلمانوں کو مخصوص حالات میں اللہ تعالیٰ نے دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے۔اسلام عیسائیت کی طر ح یہ نہیں کہتا کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دو ( متی باب ۵ آیت ۳۹) بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص تم پر ظالمانہ حملہ کرے یعنی بغیر کسی گناہ کے تمہیں اپنے گھروں سے نکال دے صرف یہ کہنے کی وجہ سے کہ اللہ ہمارا رب ہے تو تم اس کا مقابلہ کر و۔اور یہ نہ سمجھو کہ ہم تھوڑے ہیں۔کیونکہ اگر تم مظلوم ہوتو خدا تعالیٰ تمہاری مد د کے لئے آئےگا اور وہ تمہاری مدد کرنے پر قادر ہے۔اور یاد رکھو کہ یہ حکم دنیا میں امن قائم رکھنے کے لئے ہے۔اگر ہم یہ حکم دے کر