تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 15
کردیا تھا۔عکرمہ ؓ کو تو یہ کہنا چاہیے تھاکہ میںگواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے۔او ر اےمحمدؐ ! میںیہ بھی گواہی دیتاہوں کہ تیرانام ہی محمدؐ نہیں بلکہ تو وہ محمدؐ ہے جس کی سب نبیوں نے خبردی ہے اور جس کے رحم کے سب انبیاء گن گاتے رہے ہیں۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْۤ اِلَيْهِمْ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ اور تجھ سے پہلے بھی ہم نے صرف بعض مردوں کو رسول بناکر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی کیاکرتے تھے۔اگر تم (یہ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۰۰۸ بات) نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ کر دیکھ لو۔تفسیر۔اس میںبتایاگیاہے کہ تجھ سے پہلے رسول بھی کامل القوٰی انسان ہوتے تھے۔ان میںاور دوسرے شریف مردوں میںیہی فرق ہوتاتھاکہ خدا ان کی طرف وحی کرتاتھا۔اس جگہ دوسرے انبیاء کو بھی رجالًاکے الفاظ سے یاد کیا ہے یعنی کامل القویٰ لوگ۔یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میںنہیں بلکہ اپنی قوم کے لوگوںکے مقابلہ پر ہے ہر نبی اپنی قوم کے لوگوںمیںسے اشرف اور اعلیٰ ہوتاہے۔پھر فرماتا ہے جو تم سے پہلے اہل کتاب گذر چکے ہیں ان سے پوچھ لو کہ ان کی طرف بھی انسان رسول آئے ہیںیاخدا رسول آیا ہے۔یہ آیت درحقیقت کفار کے اس اعتراض کا الزامی جواب ہے کہ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یعنی یہ تو تمہارے جیسا ایک آدمی ہے کیاتم اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہو؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھ سے پہلے بھی ہدایت کے لئے آدمی ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی نازل کیاکرتے تھے اگر تم کو معلوم نہ ہو تو یہود اور نصاریٰ سے پوچھ لو۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف اگر اور نہیںتو کم از کم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نبوت اور آپ کے خدا رسیدہ ہونے کے تو ضرور قائل تھے۔پس جب وہ بشر رسول تھے تو اب ایک بشر رسول کے آنے پرانہیںکیوں اعتراض ہے۔اس قسم کے الزامی جواب سے فائدہ یہ ہوتاہے کہ معترض جس بات کو تسلیم کرتاہے اس کے خلاف اسے تعصب نہیںہوتابلکہ اس کی تائید میںاس کے پاس دلائل ہوتے ہیں۔پس بجائے اس کے کہ جس بات پر اس نے اعتراض