تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 177
اولاد کو مولک کی نذر کر کے میرے مقدس اور میرے پاک نام کو ناپاک ٹھہرایا اور اگر اُس وقت جب وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو مولک کی نذر کرے اہل ملک اس شخص کی طر ف سے چشم پوشی کرکے اُسے جان سے نہ ماریں تو مَیں خود اُس شخص کا اور اُس کے گھرانے کا مخالف ہو کر اُس کو اور اُن سبھوں کو جو اُس کی پیروی میں زنا کار بنیں اور مولک کے ساتھ زنا کریں اُن کی قوم میں سے کاٹ ڈالوںگا۔‘‘ ( احبار باب ۲۰ آیت ۱ تا۵) لیکن باوجود اس کے کہ بائیبل انسانی قربانی کو بُرا قرار دیتی ہے پھر بھی بائیبل بتاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہی حکم دیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو چھری سے ذبح کریں۔چنانچہ پیدائش میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ ’’ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتائوںگا سو ختی قربانی کے طور پر چڑھا۔تب ابراہام نے صبح سویر ے اُٹھ کر اپنے گدھے پر چارجامہ کسا اور اپنے ساتھ دو جوانوں اور اپنے بیٹے اضحاق کو لیا اور سوختنی قربانی کے لئے لکڑیاں چیریں اور اُٹھ کر اُس جگہ کو جو خدا نے اُسے بتا ئی تھی روانہ ہو ا۔‘‘ ( پیدائش باب ۲۲ آیت ۲تا ۳) پھر لکھا ہے ’’ وہاں ابراہام نے قربان گاہ بنائی اور اُس پر لکڑیاں چنیں اور اپنے بیٹے اضحاق کو باندھا اور اُسے قربان گاہ پر لکڑیوں کے اوپر رکھا اور ابراہام نے ہاتھ بڑھا کر چھری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے۔تب خداوند کے فرشتے نے اُسے آسمان سے پکارا کہ اے ابراہام۔اے ابراہام ! اُس نے کہا میں حاضر ہوں۔پھر اُس نے کہا کہ تُو اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ چلا اور نہ اس سے کچھ کر کیونکہ میں اب جان گیا کہ تُو خدا سے ڈرتا ہے۔اس لئے کہ تُونے اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے مجھ سے دریغ نہ کیا۔اور ابراہام نے نگاہ کی اور اپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جس کے سینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔تب ابراہام نے جاکر اُس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کے بدلے سوختی قربانی کے طور پر چڑھا یا۔‘‘ ( پیدائش باب ۲۲ آیت ۹ تا ۱۳) اب اگر اسی طرح واقعہ ہوا ہو کہ خدا تعالیٰ نے پہلے الہامًا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ کہا ہو کہ جائو اور اپنے