تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 176

اُس نے اپنے بیٹے کو آگ میں چلایا۔‘‘ ( نمبر ۲ سلاطین باب ۲۱ آیت۵، ۶) اس بارہ میں بھی تواریخ کا بیان سلاطین سے کسی قدر مختلف ہے یعنی سلاطین میں تو صرف ایک بیٹے کی قربانی کا ذکر کیا گیا ہے مگر تواریخ میں لکھا ہے کہ ’’ اُس نے بن ہنوم کی وادی میں اپنے فرزندوں کو بھی آگ میں چلوایا۔‘‘ ( ۲۔تواریخ باب ۳۳ آیت ۶) حضرت دائو د علیہ السلام بھی اس بُرائی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ انہوں نے اپنے بیٹوں بیٹیوں کو شیا طین کے لئے قربان کیا اور معصوموں کا یعنی اپنے بیٹے بیٹیوں کا خون بہایا ( جوکہ ایک بُرا فعل تھا اور شرک پر دلالت کرتا تھا ) جن کو انہوں نے کنعان کے بتوں کے لئے قربان کر دیا اور ملک خون سے ناپاک ہو گیا۔ـ‘‘ ( زبور باب ۱۰۶ آیت ۳۷، ۳۸) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی انسانی قربانی کا رواج تھا جس سے شریعت موسویہ میں بڑی سختی کے ساتھ روکا گیا۔چنانچہ استثناء میں لکھا ہے ’’ جب تو اس ملک میں جو خدا وند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے پہنچ جائے تو وہاں کی قوموں کی طرح مکروہ کام کرنے نہ سیکھنا۔تجھ میں ہر گز کوئی ایسا نہ ہو جو اپنے بیٹے یا بیٹی کو آگ میں چلوائے یا فال گیر یا شگون نکالنے والا یا افسون گر یا جادوگر یا منتری یا جنات کا آشنا یا رمّال یا ساحر ہو۔کیونکہ وہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں خداوند کے نزدیک مکروہ ہیں۔‘‘ ( استثناء باب ۱۸ آیت ۹ تا ۱۲) احبار میں بھی لکھا ہے کہ ’’ تُو اپنی اولاد میں سے کسی کو مولک ( یہ کنعانیوں کا ایک بت تھا ) کی خاطر آگ میں سے گذرنے کے لئے نہ دینا۔اور نہ اپنے خدا کے نام کو ناپاک ٹھیرانا۔‘‘ ( احبار باب ۱۸ آیت ۲۱) اسی طرح لکھا ہے ’’ خداوند نے موسیٰ سے کہا تُو بنی اسرائیل سے یہ بھی کہہ دے کہ بنی اسرائیل میں سے یا اُن پر دیسیوں میں سے جو اسرائیلوں کے درمیان بودو باش کرتے ہیں جو کوئی شخص اپنی اولاد میں سے کسی کو مولک کی نذر کرے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔اہل ملک اُسے سنگسار کریں۔اور میں بھی اُس شخص کا مخالف ہوںگا اور اُسے اس کے لوگوں میں سے کاٹ ڈالوں گا۔اس لئے کہ اُس نے اپنی