تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 175

قربانی کے لئے جانور پیدا کئے ہیں وہ اپنے نفس کی قربانیاں اُس کے لئے اور اُس کے دین کے لئے کریں۔پس تم بھی ایک خدا کے لئے قربانی کرو۔اور اس کے فرما نبردار ہو جائو تاکہ دنیا میں ایک خدا کی بادشاہت قائم ہوجائے اور اے رسول جو بھی ہمارے حضور میں عجزو انکسار سے رہنا چاہیں اور ہمارا نام آتے ہی اُن کے دل لرز جائیں اور مصیبتوں پر وہ صبر کریں اور باجماعت نمازیں ادا کیا کریں اور اپنے اموال غریبوں پر خرچ کرتے رہیں اُن کو بتا دے کہ یہ ایسا راستہ ہے جس سے وہ اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میںبھی عزت حاصل کریں گے۔وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ میں اللہ تعالیٰ نے دو امور کی طرف توجہ دلائی ہے۔ایک تو اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ سب مذاہب میں قربانی کا وجود پایا جا تاہے۔اور دوسرے یہ بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہٰی رضاء کے لئے ہمیشہ جانوروں کی قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔پس جن قوموں میں انسانی قربانی کا رواج رہا ہے وہ درحقیقت مذہب کے بگاڑ کی وجہ سے پید ا ہوا ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں جانوروں کی قربانی کا ہی حکم دیا گیا تھا۔بائیبل کے مطالعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانوں میں انسانی قربانی کا رواج ہوا کرتا تھا جو بنی اسرائیل میں بھی اُن کے بگاڑ کے زمانہ میں جاری ہو گیا اور انہوں نے بُتوں پر اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو قربان کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ نمبر ۲۔سلاطین باب ۱۶ میں آخز بادشاہ کے متعلق لکھا ہے کہ ’’اس نے وہ کام نہ کیا جو خداوند اُس کے خدا کی نظر میں بھلا ہے۔جیسا اُس کے باپ دائود نے کیا تھا۔بلکہ وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی راہ پر چلا اور اُس نے ان قوموں کے نفرتی دستور کے مطابق جن کو خداوند نے بنی اسرائیل کے سامنے سے خارج کر دیا تھا اپنے بیٹے کو بھی آگ میں چلوایا۔‘‘ (باب ۱۶ آیت ۲،۳) نمبر ۲۔تواریخ باب ۲۸ آیت ۳میں صرف ایک بیٹے کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ لکھا ہے کہ آخز نے’’ اپنے ہی بیٹوں کوآگ میں جھونکا۔‘‘ گویا صرف ایک بیٹے کی نہیں بلکہ کئی بیٹوں کی اُس نے قربانی کی۔اسی طرح بنی اسرائیل کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے ہوسیع بادشاہ کے عہد میں’’بعل کو پُوجا اور انہوں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو آگ میں چلوایا اور فال گیری اور جادو گری سے کام لیا۔‘‘ ( نمبر۲ سلاطین باب ۱۷ آیت ۱۶،۱۷) حزقیاہ کے بیٹے منسی کے متعلق بھی لکھا ہے کہ اُس نے ’’ خداوند کی ہیکل کے دونوں صحنوں میں مذبح بنائے اور