تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 14
بنی نوع انسان کے لئے ہمیشہ کھلا رہتاہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح یونس ؑ کی قوم ایمان لائی اور اللہ تعالیٰ نے اسے عذاب سے نجات دی اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم بھی عذاب کے آنے کے بعد آپ پر ایمان لائی اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی برکات سے بہرہ ور فرمایا۔صلح حدیبیہ کے بعد جب مکہ والوں کو انتہائی ذلت کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھکنا پڑا اور خالد ؓ اور عمر وؓ بن العاص جیسے لوگ جنہوںنے بعد میں ساری دنیا کو اسلام کے لئے فتح کیا اسلام لے آئے اور جب مسلمانوںکاجرار لشکر مکہ میںداخل ہوا اور مکہ کی حکومت تہ و بالا کردی گئی تو ہندہ جیسی دشمن اسلام عورت بھی ایمان لے آئی اور ابوجہل کا بیٹاعکرمہ بھی ایمان لے آیا یونس ؑ کے بعد صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ذات ہے جن کی قوم پر عذاب آیا مگر پھر بھی وہ ایمان لے آئی یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دم قدم کی برکت تھی ورنہ نہ یہ بات مسیح کو نصیب ہوئی نہ کسی اور نبی کو صرف یونس ؑ کو پہلے نبیوں میںسے اور محمد رسول للہ کو آخری نبیوں میں سے یہ بات نصیب ہوئی۔صلی اللہ علیہ وسلم۔یہ جو فرمایا کہ جب پہلے ایمان نہیں لائے تو کیایہ ایمان لے آئیںگے؟ اس سے یہ مرادنہیں کہ وہ ایمان نہیںلائیںگے۔وہ تو لے آئے تھے۔بلکہ اس میں ا ن کے اپنے خیالات کارد ہے اور یہ بتایا ہے کہ عقلی قاعدہ کے مطابق تو وہ ایمان نہیںلا سکتے تھے اتنے شدید ظلموں کے بعد اگر ایک قوم مغلوب ہوتی ہے تو اس کو ایمان نصیب نہیں ہوتا بلکہ اس کے مرد قتل کر دیے جاتے ہیںجیساکہ موسیٰ علیہ السلام کو اپنے دشمن کنعانیوں کے ساتھ سلوک کرنےکا حکم دیا گیا۔(استثنا باب ۲۰ آیت ۱۴ ) یہ محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات ستودہ صفات تھی کہ موسیٰ ؑ اور پہلے نبیوں کے طریق کے خلاف ظالم اہل مکہ کو جب انہوںنے فتح کر لیا۔تو یہ اعلان کردیاکہ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ آج تم پر کسی قسم کی گرفت نہیں تم سب کو معاف کیا جاتا ہے۔حتٰی کہ جب عکرمہ بن ابوجہل اپنی بیوی کے اصرار پر حبشہ کی طرف بھاگتے ہوئے لوٹ کر واپس آیا تو اس نے رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر کہا۔یا محمدؐ میری بیوی کہتی ہے آپ نے مجھے معاف کردیا ہے اور میںمکہ میںرہ سکتاہوں۔کیا یہ ٹھیک ہے۔آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔عکرمہ نے کہا یامحمد ؐ آپ کا شکریہ مگر میں اپنامذہب بد لنے کے لئے تیار نہیں کیا اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے بھی میںآپ کی مملکت میںرہ سکتاہوں؟ آپ نے فرمایاہاں۔جب ا س نے یہ سنا تو بے اختیار کہہ اٹھا اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ میںگواہی دیتاہوں کہ اللہ ایک ہے اور محمدؐ اس کے رسول ہیںعکرمہ حقیقت سے ناواقف تھا اس نے یہ سمجھاکہ اللہ کے رسول ہونے کی وجہ سے آپ نے مجھے معاف کیاہے حالانکہ موسیٰ ؑ بھی اللہ کے رسول تھے اور انہوںنے اپنی مد مقابل قوم کو فتح کرکے سب زن و مرد کو قتل