تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 174

مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا تو اُن (کے گوشت) میں سے خود بھی کھائو اور اُن کو بھی کھلائو جو اپنی غربت سے پریشان ہیں۔اسی طرح ہم نے لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۰۰۳۷ اُن جانوروں کو تمہارے فائدے کے لئے بنایا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔حلّ لُغَات۔اَلْبُدْنُ۔اَلْبُدْنُ اَلْبَدَنَۃُ کی جمع ہے۔اور اَلْبَدَنَۃُ کے معنے ہیں نَاقَةٌ اَوْ بَقَرَۃٌ تُنْحَرُ بِمَکَّۃَ سُمِّیَتْ بِذٰلِکَ لِاَ نَّھُمْ کَانُوْا یُسْمِنُوْ نَھَا۔یعنی بَدَنَۃٌ اُس اونٹنی یا گائے کو کہتے ہیں جو مکّہ میں حج کے موقع پر ذبح کی جاتی ہے۔اور بَدَنَۃٌ بَدَنَ سے ہے جس کے معنے بدن کے بڑے ہو جانے کے ہیں۔اور قربانی کو اس لئے بَدَنَۃٌ کہتے ہیں کہ لوگ اس کو کھلا پلا کر خوب موٹا کرتے ہیں۔(اقرب) شَعَائِرٌ۔شَعَائِرٌ شَعِیْرَ ۃٌ کی جمع ہے اور اَلشَّعِیْرَۃُکے معنے ہیں اَلْعَلَامَۃُ۔علامت۔(اقرب) صَوَافٌّ۔صَوَافٌّ اَلصَّآ فَّۃُ کی جمع ہے اور اَلصَّآفَّۃُمِنَ الْاِبِلِ کے معنے ہیں اَلْوَاضِعَۃُ قَوَائِمُھَا صَفًّا جن کو ایک قطار میں کھڑا کیا جائے۔(اقرب) وَجَبَتْ۔وَجَبَتْ وَجَبَ کے معنے ہوتے ہیں سَقَطَ وَمَاتَ۔وہ گِر گیا اور مر گیا۔پس وَجَبَتْ جُنُوْبُھَا کے معنے ہوںگے۔جب وہ اونٹ پہلوئوں پر گِر جائیں اور اُن کی جان نکل جائے۔(اقرب) اَلْقَانِعُ۔اَلْقَانِعُ قَنَعَ سے اسم فاعل ہے۔اور قَنَعَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں سَأَ لَ وَتَذَلَّلَ۔اُس آدمی نے سوال کیا اور سوال کرنے میں عاجزی اختیار کی۔پس اَلْقَانِعُ کے معنے ہوںگے سوال کرنےوالا۔(اقرب) اَلْمُعْتَرُّ۔اَلْمُعْتَرُّ کے معنے ہیں اَلْفَقِیْرُ۔اَلْمُعْتَرِ ضُ للْمَعْرُوْفِ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّسأَ لَ۔اپنی حالت کو پیش کرکے بغیرسوال کرنے کے مانگنے والا۔(اقرب)یعنی ایسا شخص جو مُنہ سے سوال نہیں کرتا بلکہ اپنی حالت سے سوال کرتا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔قربانی کا طریق ہم نے ہر قوم میں جاری کیا ہے۔تاکہ وہ اُن چوپایوں پر جو اللہ تعالیٰ نے اُن کو عطا فرمائے ہیں اُس کا نام لیا کریں۔اور اس طرح اس کے اس عظیم الشان احسان کا کہ اُس نے اُن کے لئے خوراک اور سواریاں پیدا کی ہیں کم سے کم زبانی شکریہ ادا کریں۔حقیقی شکریہ تو یہ ہے کہ جس طرح اُس نے اُن کی